نیویارک میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی آخری رسومات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آخری رسومات میں ملک کے دیگر حصوں سے بھی پولیس اہلکاروں نے شرکت کی

امریکہ کے شہر نیویارک میں ایک ہفتہ قبل فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کی آخری رسومات میں نائب امریکی صدر سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

یہ واقعہ گذشتہ سنیچر کو بروکلِن میں پیش آیا جب ایک حملہ آور نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھے دو اہلکاروں کوگولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

40 سالہ پولیس اہلکار رافیئل راموس کی آخری رسومات میں ملک بھر سے آنے والے پولیس اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اس موقعے پر پولیس اہلکار کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ’خدمات سرانجام دینے والا یہ دنیا کا بہترین محکمۂ پولیس ہے۔‘

’میرے نزدیک یہ عظیم پولیس فورس قوم کو دکھائے گی کہ ایک بے حد تنوع شہر کو کیسے یکجا رکھنا ہے اور آپ نے پہلے یہ کیا ہے اور آپ دوبارہ کریں گے۔‘

آخری رسومات میں پولیس نے نیویارک کے میئر بل ڈی بلازیو پر دوبارہ تنقید کی کیونکہ ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے پولیس مخالف چند مظاہروں کی پشت پناہی کی تھی۔

نیویارک پولیس کمشنر بریٹن نے کہا کہ رافیئل راموس کو اس وجہ سے ہلاک کیا گیا کہ وہ ہماری نمائندگی کرتا تھا۔

’دو پولیس اہلکاروں کو ایک پاگل شخص نے ہلاک کیا اور وہ صرف دو ودریاں دیکھ سکتا تھا لیکن ان کو پہننے والے دو افراد کو نہیں۔‘

پولیس کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دوسرے پولیس اہلکار لیو وینجن کی آخری رسومات کی تاریخ کا اعلان بعد میں اس وقت کیا جائے گا جب ان کے اہلخانہ چین سے امریکہ پہنچ جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اہلکار لیو وینجن کی آخری رسومات کی تاریخ کا اعلان بعد میں اس وقت کیا جائے گا

امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

یہ نیویارک میں گذشتہ تین برس میں کسی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا پہلا واقعہ تھا۔

لیو وینجن اور رافیئل راموس نامی پولیس اہلکاروں کو سنیچر کی سہ پہر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گشت سے لوٹے تھے۔ حملے کے فوری بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

امریکی شہر نیویارک میں پولیس حکام کے مطابق دو پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے شخص سے حملہ کرنے سے قبل فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ’دیکھو میں کیا کرنے والا ہوں۔‘

28سالہ اسماعیل برنزلی کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ کہ ماضی میں بھی وہ ذہنی عدم توازن اور تشدد کا شکار رہ چکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل برنزلی نے بالٹیمور نامی علاقے میں اپنی سابق 29 سالہ گرل فرینڈ کو بھی گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

اس واقعے سے پہلے امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے تھے۔

اسی بارے میں