انڈونیشیا: ایئر ایشیا کا طیارہ لاپتہ، اندھیرے کے باعث سرچ آپریشن معطل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ جہاز ملائیشیا کی کمپنی ایئر ایشیا کی ذیلی کمپنی ایئر ایشیا انڈونیشیا کی ملکیت ہے اور انڈونیشیا ہی میں رجسٹرڈ ہے

ملائیشیا کی نجی ہوائی کمپنی ایئر ایشیا انڈونیشیا کے ایک طیارے کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا ہے۔ یہ طیارہ انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا۔

ایئر ایشیا کے چیف ایگزیکٹیو ٹونی فرنینڈس طیارے کے لاپتہ ہونے کے بعد سورابایا پہنچ گئے ہیں اور وہاں انھوں نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ طیارے کا لاپتہ ہو جانا ایک بہت بڑا صدمہ ہے اور اس میں سوار افراد کے اہلحانہ اور عزیزوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔

انڈونیشیا کی فضائیہ اور سنگاپور کے جہازوں نے بحیرۂ جاوا میں طیارے کی تلاش کا عمل اندھیرا ہو جانے کے باعث روک دیا گیا ہے۔ اب یہ عمل صبح دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ درجنوں کی تعداد میں بحری جہاز اور کشتیاں جہاز کی تلاش میں حصہ لے رہی ہیں اور انھیں اندھیرا ہونے کے بعد خراب موسم کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایئر ایشیا نے کہا ہے کہ صبح 7:24 پر اڑنے کے 45 منٹ بعد ایئر بس اے 200-320 کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا اور طیارے کی تلاش کی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

یہ جہاز ملائیشیا کی کمپنی ایئر ایشیا کی ذیلی کمپنی ایئر ایشیا انڈونیشیا کی ملکیت ہے اور انڈونیشیا ہی میں رجسٹرڈ ہے جو مسافروں کو سستی پروازیں فراہم کرتی ہے۔ جہاز کی پرواز کا دورانیہ تین گھنٹے تھا لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد غائب ہو گیا۔

کمپنی کے بیان کے مطابق جہاز پر 155 مسافر سفر کر رہے ہیں، جن میں 17 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دو پائلٹ اور عملے کے پانچ دوسرے ارکان بھی جہاز پر سوار ہیں۔

اس سال ملائیشیا کی سرکاری ہوائی کمپنی ملائیشیا ایئرلائن کے دو طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ البتہ اس سے پہلے ایئرایشیا کے کسی طیارے کو کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔

مارچ میں ملائیشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ 370 جکارتہ سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اور اس کا آج تک سراغ نہیں ملا۔ اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے۔ جب کہ پرواز ایم ایچ 17 جولائی میں یوکرین کے اوپر سے اڑتے وقت مار گرائی گئی تھی، جس سے اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک مقامی ٹرانسپورٹ اہلکار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پرواز نمبر 8501 QZ کا رابطہ جکارتہ ایئر پورٹ سے مقامی وقت کے مطابق صبح سوا چھ بجے کے بعد سے منقطع ہے۔

ٹرانسپورٹ اہلکار ہادی مصطفیٰ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ لاپتہ ہونے سے قبل طیارے نے مقررہ راستے سے ہٹ کر ایک اور راستے پر جانے کی اجازت طلب کی تھی، جب کہ کمپنی نے کہا ہے کہ جہاز نے خراب موسم کی وجہ سے اپنی پرواز کے راستے میں تبدیلی کی درخواست کی تھی۔

انڈونیشیا کے وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ جہاز کے پائلٹ نے درخواست کی تھی جہاز کو 38 ہزار فٹ کی بلندی پر بادلوں کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم جہاز کے عملے نے کسی خرابی کی کوئی اطلاع نہیں دی۔

اطلاعات کے مطابق جہاز پر چھ غیرملکی بھی سوار ہیں، جن میں سے تین کا تعلق جنوبی کوریا سے اور ایک ایک کا فرانس، ملائیشیا اور سنگاپور سے ہے۔

انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے ترجمان نے کہا کہ جہاز کا رابطہ کالیمانتان اور جاوا کے درمیان منقطع ہوا۔

ایئر ایشیا نے ایک بیان میں کہا ہے: ’بدقسمتی سے ہم اس وقت مسافروں اور عملے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتے۔ لیکن جونہی مزید معلومات فراہم ہوئیں، ہم آپ تک پہنچا دیں گے۔‘

فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کو کئی گھنٹے پہلے اتر جانا چاہیے تھا اور اب تک اس میں ایندھن ختم ہو چکا ہو گا۔

جکارتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ زیادہ تر مسافر سیاح تھے جو تفریح کی غرض سے سنگاپور جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدقسمتی سے ہم اس وقت مسافروں اور عملے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتے۔ لیکن جونہی مزید معلومات فراہم ہوئیں، ہم آپ تک پہنچا دیں گے: ایئر ایشیا

اسی بارے میں