مصر: الجزیرہ کے صحافیوں کو قید ہوئے ایک سال بیت گیا

الجزیرہ کے صحافی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر کی عدالت نے صحافیوں کو سات سے دس سال تک کی قید کی سزا سنائی تھی

مصر میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں کے والدین امید کرتے ہیں کہ اب انھیں جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔

صحافیوں کی قید کا ایک سال مکمل ہونے پر صحافی پیٹر گیٹس کے والد نے کہا کہ انھیں اعتماد ہے کہ ان کی سزا کو بدل دیا جائے گا۔

گیٹس، محمد فہیمی اور باہر محمد کو جون میں غلط خبریں نشر کرنے اور محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس ہفتے ایک عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا وہ اس سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔

صحافیوں نے سابق صدر محمد مرسی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد اخوان المسلمین کی حمایت کرنے کی سختی سے تردید کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں صرف خبریں دینے کی وجہ سے سزا سنائی گئی ہے۔

صحافیوں کی گرفتاری کا ایک سال پورا ہونے پر آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سابق بی بی سی نامہ نگارگیٹس، الجزیرہ انگلش کے قاہرہ کے بیورو چیف فہیمی اور مصری شہری اور الجزیرہ کے پروڈیوسر محمد کے رفقائے کار اور دوستوں نے پوری دنیا میں احتجاج کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا ان کو سزا دیتے ہوئے مناسب قانونی طریقے کی پیروی کی گئی تھی

الـجزیرہ سٹوڈیوز میں سکرینوں پر مصر سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ’انھیں اب چھوڑ دے۔‘ جبکہ صحافیوں نے ٹویئٹر ہیش ٹیگ ’فری اے جے سٹاف‘ اور ’جرنلزم از ناٹ اے کرائم‘ کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں گیٹس کے والد جورس نے کہا کہ ’وہ پر امید ہیں کہ نئے سال میں اہم موڑ آئے گا۔‘

’پہلا مقدمہ خامیوں اور تنازعات سے بھرا پڑا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم یقین کرتے ہیں کہ عدالت کو صرف ایک فیصلہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ اصل فیصلے کو منسوخ کر دے۔ مصر کے پاس ایسا موقع ہو گا کہ وہ اپنے اپیل کے نظام کی دیانت اور آزادی دکھا سکے۔‘

جمعرات کو عدالت ان چیزوں پر غور کرے گی کہ کیا صحافیوں اور چار مصری باشندوں کو سزا دیتے وقت مناسب قانونی طریقے کو مدِ نظر رکھا گیا تھا۔

یہ عدالت یا تو پہلا فیصلہ برقرار رکھے گی یا پھر اسے ختم کر دے گی اور اس کے بعد کیس کی ازسرِ نو کارروائی شروع ہو گی۔

فہیمی کی منگیتر ماروا عمارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپیل کی کارروائی کے عمل کی طوالت اور غیر یقینی صورتِ حال پر تشویش ہے۔

فہیمی کے وکلاء نے کہا کہ جب تک مقدمہ چلے انھیں طبی بنیادوں پر رہا کر دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ فہیمی کا گرفتاری سے پہلے بازو ٹوٹ گیا تھا اور نومبر کے وسط میں ان کی سرجری ہوئی تھی، اور انھیں ہیپاٹائٹس سی بھی ہے جس کا مناسب علاج نہیں کیا جا رہا۔

آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ نے کہا ہے کہ مصر انھیں مقدمے کے متعلق ملے جلے سگنل دے رہا ہے۔

انھوں نے آسٹریلین براڈکاسٹ کارپوریشن کو بتایا کہ ’ہمیں ایسے اشارے مل رہے تھے کہ مصر کے صدر عبدل فتح السیسی اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اپیل سے پہلے ہی معافی کا اعلان کر دیں گے۔‘

’لیکن مصر کے وزیرِ خارجہ نے مجھے کہا ہے کہ اپیل کا انتظار کریں، سو مصر کی حکومت کی طرف سے ملے جلے پیغامات آ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں