’اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو ۔۔۔‘

لیلاح الکورن تصویر کے کاپی رائٹ

’اگر آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے خود کشی کر لی ہے اور ظاہر ہے کہ میں پیغامات میں سے یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں کر سکا ہوں۔‘

یہ 17 سالہ خواجہ سرا نوجوان لیلاح الکورن کا خودکشی کرنے سے پہلے آخری پیغام ہے۔ انھوں نے اس ہفتے امریکہ کی ریاست اوہائیو میں خود کشی کی تھی۔ الکورن نے اس پیغام کو اس طرح شیڈیول کیا تھا کہ وہ ان کی موت کے کئی گھنٹوں کے بعد منظرِ عام پر آئے۔

ٹمبلر پر پوسٹ کیے جانے والے اس خط میں انھوں نے لکھا کہ ’میں نے یہ خود کشی اپنے آپ کو اپنے سخت عیسائی عقائد رکھنے والے والدین کے ساتھ کئی سال اپنی بطور لڑکی شناخت کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد کی ہے‘۔

الکورن نے اپنی پوسٹ جو 196,000 مرتبہ دوبارہ بلاگ کی جا چکی ہے لکھا: ’کوئی جیت نہیں ہے۔ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہتر ہو جائے گا لیکن میرے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔ ابتری ہی ہوئی ہے۔ ہر دن میں اور بھی بری حالت میں ہو جاتی ہوں۔‘

اس کے علاوہ ہیشٹیگ LeelahAlcorn# بھی تیزی سے پھیلا اور دو دن میں اس کا حوالہ 243,000 مرتبہ دیا گیا۔

الکورن نے اپنا نوٹ اس التجا پر ختم کیا کہ ’صرف میں اس طرح ہی آرام سے رہ سکتی ہوں اگر ایک دن ٹرانسجینڈر لوگوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جائے جس طرح میرے ساتھ نہیں کیا گیا تھا۔ میری موت کا کچھ مطلب ہے۔ معاشرے کو ٹھیک کریں۔ پلیز۔‘

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ خود کشی کا یہ پبلک پیغام ٹرانسجینڈر لوگوں کے ایشوز کے متعلق آگہی مہیا کرتا ہے اور الکورن کے وقار کے لیے بھی حتمی قدم ہے۔