شمالی کوریا کے سربراہ نے مذاکرات کی پیشکش کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نئے سال کے موقعے پر شمالی کوریا کے صدر کی یہ تقریر جنوبی کوریا میں بھی نشر کی گئی

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کو اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔

یہ پیش کش صدر کم نے نئے سال کے موقعے پر ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر پیانگ یانگ کی شرائط مان لی جائیں تو جنوبی کوریا کی صدر پارک گون ہائے سے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

<span >جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت

پیر کے روز جنوبی کوریا نے متعدد معاملات پر شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی، جن میں کوریائی جنگ میں جدا ہونے والے خاندانوں کے افراد کا ملاپ شامل ہے۔

صدر کم نے کہا: ’ماحول اور حالات کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

تاہم سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم کہتے ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ملاقات کس حد تک ممکن ہے کیوں کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کی فوجوں میں سخت کشیدگی رہی ہے۔

پیر کو جنوبی کوریا کے الحاق کے وزیر ریو کہل جائے نے کہا تھا: ’شمالی اور جنوبی کوریاؤں کو آمنے سامنے بیٹھ کر پرامن الحاق کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔‘

شمالی کوریا اس سے قبل جنوبی کوریا کی جانب سے پیش کیے جانے والے وحدت کے منصوبے کو شمالی کوریا کو ہڑپ لینے کے منصوبے کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔

ریو نے امید ظاہر کی تھی کہ شمالی کوریا ان تجاویز کا ’مثبت جواب دے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ سیول، پیونگ یانگ یا پھر شمالی یا جنوبی کوریا کے کسی بھی شہر میں بات کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں شمالی کوریا کے اہلکار بات کرنا چاہیں۔

اس سے قبل اس ضمن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات رواں سال فروری میں ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بعض کوریائی خاندان کا ملن ہوا تھا۔

اس طرح کی مزید بات چیت اکتوبر میں ہونی تھی لیکن شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر یہ الزام لگاتے ہوئے اسے ختم کر دیا کہ جنوبی کوریا اپنے کارکنوں کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کر رہا ہے جو شمالی کوریا مخالف پرچے غباروں کے ذریعے شمالی کوریا میں بھیجتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں کوریا تکنیکی طور پر سنہ 53-1950 کی کوریائی جنگ کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ البتہ ان کے درمیان باضابطہ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح ضرور ہے۔

اسی بارے میں