’روم کی سڑکوں کے اچھے دام ملیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹی کونسل کے خیال میں تارکول سے بنی ہوئی سڑکیں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے زیادہ محفوظ ہو سکتی ہیں

اطلاعات کےمطابق روم کے شہری حکومت کی جانب سے پتھر سے بنی ہوئی روم کی قدیم اور تاریخی سڑکوں کو اکھاڑ کر تارکول سے سڑکیں بنانے کی تجویز پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

روم کے ایک کونسلر نے تجویز کیا ہے کہ نجی کمپنیوں کو پیشکش کی جا رہی ہے کہ وہ پرانے پتھروں کو اکھاڑ کر ان کی جگہ تارکول کی سڑکیں بنائیں۔ کونسلر کا خیال ہے کہ پرانے پتھروں کی اب بھی مانگ ہے اور نجی کمپنیاں انھیں ملک اور بیرون ملک بیچ کر اچھے دام کما سکتی ہیں۔

روم کے تاریخی مقامات کے اردگرد بڑے علاقے کی سڑکیں پتھروں سے بنی ہوئی ہیں جہاں بسیں اور دوسری ٹرانسپورٹ چلتی ہیں۔ سٹی کونسل کا خیال ہے کہ پتھروں سے بنی ہوئی سڑکوں کی دیکھ بھال اور مرمت تارکول سے بنی ہوئی سڑکوں سے مہنگی ہوتی ہے۔

سٹی کونسل کے خیال میں پتھروں سے بنی سڑکوں روم کی تاریخی اہمیت کو تو یقیناً دوام بخشتی ہیں لیکن تارکول سے بنی ہوئی سڑکیں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے زیادہ محفوظ ہو سکتی ہیں۔

روم کے کونسلر موریزیو نے تجویز پیش کی ہے کہ نجی کمپنیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ پرانے پتھر اکھاڑ کر تارکول کی سڑکیں بنائیں۔

موریزیو کا کہنا ہے: ’یہ پرانے پتھر اٹلی اور باقی دنیا میں اچھی قیمت میں فروخت ہو سکتے ہیں۔ ہم ان پتھروں کو نجی کمپنیوں کو دے سکتے ہیں‘۔

کچھ مقامی لوگوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ’ابدی شہر‘ کے ٹکڑوں کی فروخت کی جا رہی ہے۔ کچھ شہری تارکول سےسڑکیں بنانے کی تجویز سے خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ پتھر کی سڑکیں نہ صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ شور کا باعث بھی ہیں۔

ایک شہری نے اس تجویز پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چور ابھی تک شہر کو لوٹنے سے باز نہیں آئے، اب ہمارے پتھروں کی جان تو چھوڑ دو۔‘

ایک شخص نے کہا کہ’ کولوسیم اور آرا پکس کو چھوڑ کر باقی سب کو چین کو بیچ دو۔‘

اسی بارے میں