2015 کی بڑی کہانیاں کیا ہو سکتی ہیں

سنہ 2015 کی بڑی کہانیاں کیا ہوں گی؟ بی بی سی کے سینیئر نامہ نگاروں نے پیشن گوئیاں کی ہیں کہ نئے سال میں کون کون سی کہانیوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیز ڈوسٹ، بی بی سی کی مرکزی بین الاقوامی نامہ نگار

سکیورٹی، پناہ گزین اور اسلامی گروہوں کے خلاف جنگ

سنہ 2015 مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے کے عالمی اسباب کے بارے میں ایک اور سال ہو گا۔

سنہ 2014 پاکستان اور افغانستان میں سکیورٹی کے حوالے سے بڑے چیلنجز کے ساتھ ختم ہوا۔ 2015 میں صورتِ حال مزید خراب ہو جائے گی۔ پاکستان، انڈیا اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات ضروری ہیں لیکن یہ مشکل کام ہے۔

سنہ 2015 بہت زیادہ محاذوں پر اسلامی گروہوں سے لڑنے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سال ہو گا۔

امریکہ کی کوشش ہو گی کہ وہ فوجی کارروائیوں سے بچے لیکن صدر اوباما کے پلان کے برعکس وہ ایسا کرنے سے باز نہیں رہ سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے

عراق میں امریکہ عراقی فورسز کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ وہ داعش کے قبضے والے شہر واپس حاصل کر سکیں۔ تاہم عراق حصوں میں بٹا رہے گا اور اسی طرح شام بھی جہاں ایک تباہ کن تعطل جاری رہے گا۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والا اقتصادی دباؤ کسی بھی اہم ملک کو اپنے اتحادیوں سے علیحدہ ہونے پر مجبور نہیں کرے گا لیکن یہ دباؤ ضرور پیدا ہو گا کہ کوئی راستہ ڈھونڈا جائے۔

صدر بشار الاسد کے اہم حمایتی روس اور ایران نئی سیاسی حکمتِ عملی پر غور کریں گے جن میں حلب میں مقامی ’فریز‘ کا اقوامِ متحدہ کا منصوبہ بھی ہے۔

مغرب، عرب ممالک اور ترکی مختلف فورسز کی حمایت کرتے رہیں گے جو کہ کسی بھی حزبِ مخالف کے متحدہ فرنٹ کی راہ میں رکاوٹ ہو گی۔

امید ہے کہ سنہ 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہو جائے گا۔ امریکی وزیرِ خارجہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کروانے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برجٹ کینڈل، سفارتی نامہ نگار

شام اور باغی روس کو قابو کرنا

سنہ 2015 میں مغربی سفارتکاروں کے سامنے دو چیلنجز ہوں گے اور وہ یہ کہ کس طرح شام کے ٹوٹنے کی وبا پر قابو پایا جا سکے اور کس طرح باغی روس کو روکا جا سکے۔

پہلے کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی مثال بن سکتا ہے جس سے ایران ایک خارج شدہ ملک سے ایک پارٹنر میں تبدیل ہو جائے گا۔

مغرب اور ایران کا پہلے ہی داعش کے روپ میں ایک مشترکہ دشمن ہے جو شام اور عراق کو توڑ رہا ہے۔ دونوں فریقوں کی کوشش ہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے۔ مغرب چاہتا ہے جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران نہ بنے جبکہ صدر روحانی چاہتے ہیں کہ ان کے ملک پر لگائی گئیں اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں حالات خراب رہیں گے اور شاید یہ لڑائی بڑھتی چلی جائے

لیکن شاید سمجھوتے کی کھڑکی بند ہو رہی ہے۔ کیپیٹل ہل میں بیٹھے رپبلیکنز صدر اوباما کو روکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جبکہ تہران کے قدامت پسندوں کی کوشش ہو گی کہ معاہدے کی حمایت کی بجائے اسے عام انتخابات سے پہلے روکا جائے۔

اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ایران کے اتحادی شام کے صدر بشار الاسد کا کیا جائے جو کہ کسی بھی مصلحت کے تحت بہت سے مغربی ممالک کو قول نہیں۔

اسی طرح یوکرین کے مسئلے پر روس کے ساتھ کوئی معاہدہ لڑائی کو طول دینے سے بہتر ہے۔ ہو سکتا ہے روس کے اندر پیدا ہونے والا اقتصادی بحران صدر پوتن کو لچکدار بنا دے۔

لیکن ایک دوسرے پر اعتماد میں کمی ایسا کرنے سے روکے گی۔ یوکرین اور مغربی طاقتیں ماسکو کو بہت شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور صدر پوتن مغرب سے کم تعلقات کو روس کے خود انحصار ہونے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔

مغرب روس کو الزام دے گا اور پوتن مغرب کو اور ساتھ ساتھ وہ روسیوں کو کہتے رہیں گے کہ غیر ملکیوں کے برے اثر سے بچنے کے لیے اپنے اندر دیکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مارک مرڈل، پیش کار

مستقبل کے تنازعات میں مغرب کا کردار

گلوبلائزیشن کے دباؤ کا مطلب ہے کہ ہمارے جڑی ہوئی دنیا کے ٹکڑے۔

امریکہ ترقی کرے گا، یورپ پر جمود رہے گا یا پھر وہ مزید بگڑ جائے گا اور چین تو ایک وائلڈ کارڈ ہے۔ عدم مساوات بڑھے گی اور کسی کو سمجھ نہیں آئے گا کہ وہ اس کے متعلق کیا کرے۔ اس سے اس تاثر کو ہوا ملے گی کہ سیاست بیکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگلے امریکی صدر کو بش کے ’ایڈونچرزم‘ اور اوباما کی ’خاموشی‘ کے درمیان کی کوئی راہ نکالنی ہو گی۔

سنہ 2014 کی جنگیں مزید بڑھ جائیں گی یا شاید مزید بگڑ جائیں اور نئی لڑائیاں شروع ہو جائیں گی۔ ان کی وجہ سے اور 2016 میں ہونے والے امریکی انتخابات کی وجہ سے ان میں مغرب کی مداخلت کے متعلق بحث تیز جائے گی۔

اگلے امریکی صدر کو بش کے ’ایڈونچرزم‘ اور اوباما کی ’خاموشی‘ کے درمیان کی کوئی راہ نکالنی ہو گی۔

یورپ کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اس نے اپنی سرحدیں یہی رکھنی ہیں۔ کیا یوکرین اور ترکی نے کبھی بھی اس میں شامل نہیں ہونا۔ کئی دوسرے سیاسی پراجیکٹس کی طرح یورپی یونین بھی اگر بڑھے گی نہیں تو کم از اس میں سے ہوا ضرور نکلنے لگ جائے گی۔

نئے سال میں انٹرنیٹ ایک فلسفیانہ جنگ کا محاذ بن جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کیری گریسی، ایڈیٹر چین

چین: سیاسی صفائی، زیادہ پیداوار اور انٹرنیٹ گورننس

سنہ 2015 میں اینٹی کرپشن مہم جاری رہے گی تاکہ کمیونسٹ پارٹی کو صاف کیا جائے۔ اس طرح صدر چی کے باقی سیاسی حریفوں کا بھی صفایا ہو جائے اور بیوروکریسی کو خوف کے باعث اپنی لالچ اور مایوس رہنے کی عادت کو بدلنا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں ’سیاسی صفائی‘ کا کام جاری رہے گا

نیا اقتصادی نعرہ ہے کہ چین میں گذشتہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے جاری زیادہ اقتصادی ترقی کے ماڈل کو ذرا کم کیا جائے۔ اصلاحات بہت ضروری ہیں لیکن ان میں تاخیر سے مزید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

چین کی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لگتا ہے کہ مارک زوکر بیجنگ واپس جائیں گے جہاں وہ چین میں فیس بک کی رسائی کے لیے کوئی سمجھوتے بھی کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کمال احمد، بزنس ایڈیٹر

مشرق سے سرمایہ کاری اور علی بابا

بزنس کی طاقت کا مغرب سے مشرق کی طرف جھکاؤ عالمی طور پر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ چین کی کمپنیاں اور بینک مغرب کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

چین کی آن لائن کمپنی علی بابا اب دنیا کے سب سے اہم فروخت کار کے طور پر امریکی کمپنی والمارٹ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ 2015 میں شاید یہ دنیا کی 10 بڑی بزنس کمپنیوں میں شامل ہو جائے۔

مغرب کو پیسے چاہئیں اور پیسے جمع کرنے والے لوگوں کے ملک چین کے پاس یہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption علی بابا دنیا کی دس بڑی کمپنیوں کی صف میں شامل ہو جائے گی

اسی بارے میں