لیبیا کے شدت پسند رہنما امریکہ میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ S
Image caption اللبی پر الزام تھا کہ وہ افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں

القاعدہ کے مبینہ رہنما ابو انس اللبی نیویارک میں مقدمہ چلنے سے چند دن پہلے ہی ہلاک ہو گئے۔ ان پر 1998 میں افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملوں کا الزام تھا۔

اللبی کی اہلیہ اور وکلا نے بتایا کہ 50 سالہ اللبی جمعے کو ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ اطلاعات کے مطابق انھیں جگر کا سرطان تھا۔

اللبی کو اکتوبر 2013 میں امریکہ نے لیبیا کے شہر طرابلس سے چھاپہ مار کر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

انھیں 12 جنوری کو 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کا ملزم قرار دیا گیا تھا۔ ان حملوں میں 220 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اللبی کا اصل نام نزیہ عبدالحمید الرقیعی تھا، اور انھوں نے دہشت گردی کے الزام سے انکار کیا تھا۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کی اہلیہ ام عبداللہ نے ہفتے کے روز امریکی حکومت پر ’اغوا، بدسلوکی اور ایک بےگناہ شخص کو قتل کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے خاوند جگر کے آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوئے۔

2013 میں پکڑے جانے سے قبل اللبی کا نام ایک عشرے سے امریکی ایف بی آئی کی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں درج تھا۔ ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقرر کی گئی تھی۔

ان پر نیویارک کی ایک جیوری نے 2000 میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

لیبیا کے احتجاج کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے لیبیا پر امریکی چھاپے کا دفاع کیا تھا۔

اسی بارے میں