انسانی سمگلروں کا نیا حربہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسمگلروں کا نیا حربہ

اطالوی پولیس کا خیال ہے کہ بحیرہ روم میں ملنے والے بحری جہاز جس پر359 تارکین وطن سوار تھے اس کے ذریعے انسانوں کے سمگلروں نے 30 لاکھ پاونڈ کمائے ہوں گے۔

دی عزالدین نامی جہاز اٹلی کے ساحلوں کے قریب سمندر میں جمعہ کو ملا تھا اور جس کھنچ کر کورگلیانو کالابرو کی بندرگاہ پر لایا گیا تھا۔

اس جہاز پر سوار زیادہ تر لوگوں کا تعلق شام سے ہے۔ اس ہفتے اپنی نوعیت کا یہ دوسرا واقع ہے جہاں غیر قانونی تارکین وطن سے بھرا ہوا جہاز بغیر عملے کے سمندر میں تیرتا ہوا ملا ہو۔

ان دونوں جہازوں نے ترکی سے اپنا سفر شروع کیا۔ عموماً لیبیا کے ذریعے لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچایا جاتا ہے۔

کوسنزا صوبے کی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ہر ایک شخص سے چار ہزار سے آٹھ ہزار ڈالر وصول کرکے اسے اس جہاز پر سوار کرایا گیا تھا۔

پولیس کے سربراہ کے مطابق ان سمگلروں نے سر پر نقاب ڈال رکھے تھے اور وہ جہاز کے مسافروں کو بند کرنے کے بعد جہاز کو چھوڑ کر کشتیوں کے ذریعے فرار ہو گئے۔

قبل ازیں اطالوی کوسٹ گارڈز نے بلیو سکائی ایم نامی جہاز کو جس پر 796 مسافر سوار تھے پکڑا تھا۔ اس پر بھی جہاز کے عملے کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔ اس جہاز کو جنوبی اٹلی کی بندرگاہ گیلاپولی لایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا کے بجائے اب ترکی کا راستہ استعمال کیا جا رہا ہے

سمگلروں کا نیا حربہ بڑا سادہ اور آسان ہے۔ جہاز کا رخ اٹلی کی طرف موڑ کر کے اسے سمندر کی لہروں پر چھوڑ کر فرار ہو جاو تاکہ اس کو اطالوی کوسٹ گارڈز سمندر سے نکال لیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے یورپی یونین کی طرف غیر قانونی راستوں سے آنے والے تارکین وطن کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

گذشتہ سال ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین ہزار افراد بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دو لاکھ افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

عزالدین سیرا لیوئن کا ایک پرانا جہاز تھا جو کہ مال مویشی لے جانے کے استعمال کیا جاتا تھا۔

اطالوی پولیس افسر کا کہنا ہے کہ سمگلروں کا نیا حربہ اب نسبتاً کھاتے پیتے لوگوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کھاتے پیتے لوگ بھی شام کی خانہ جنگی سے یورپ کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں

اطالوی حکام کے مطابق تمام مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا ہے اور اب انھیں امیگریشن مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام سے آنے والے لوگوں میں اب انھوں نے واضح فرق محسوس کیا ہے۔ یہ لوگ معاشی طور پر بہتر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کے کپڑے بہتر تھے اور وہ بہتر طور پر تیار تھے۔ وہ اُتنے زیادہ مجبور نظر نہیں آتے۔