ایئرایشیا سرچ آپریشن میں مزید لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خراب موسم کے سبب غوطہ خور فیوزیلاژ تک نہیں پہنچ سکے

بحیرۂ جاوا میں ایئر ایشیا کی پرواز QZ8501 کی تلاش کے دوسرے ہفتے میں سرچ ٹیم کو مزید چار لاشیں ملی ہیں۔

امدادی کاموں کے چیف بیم بینگ سولسٹیو کا کہنا ہے کہ اب تک 35 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اس کے علاوہ جہاز کے پانچ بڑے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔

خراب موسم کے سبب غوطہ خور فیوزیلاژ تک نہیں پہنچ سکے (جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں) خیال کیا جا رہا ہے کہ بیشتر مسافروں کی لاشیں فیوزیلاژ کے اندر ہیں۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز گذشتہ اتوار کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔

خیال تھا کہ اتوار کو موسم بہتر ہوجائے گا لیکن ایک بار پھر جہاز کے ملبے کے بڑے حصے کی تلاش میں خراب موسم روکاوٹ بنا ہوا ہے۔

خیال ہے کہ جہاز کے تباہ ہونے کی بڑی وجہ خراب موسم ہے حالانکہ اب تک جہاز کا بلیک باکس اور فیوزیلاژ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔

بیم بینگ سولسٹیو کا کہنا ہے کہ تلاش کی مہم میں تقریباً 30 پانی کے جہاز چھ ہوائی جہاز اور 14 ہیلی کاپٹر لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 16 فٹ اونچی لہروں نے اس کام کو بےحد مشکل بنا دیا ہے

ہفتے کے روز حکام نے کہا تھا کہ ایک بحری جہاز نے سونار کی مدد سے چار بڑی اشیا دریافت کی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 59 فٹ لمبی اور 18 فٹ چوڑی ہے اور یہ سمندر میں تقریباً 100 فٹ کی گہرائی میں پڑی ہوئی ہے۔

ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے کیمروں کی مدد سے ان اشیا کی تصاویر لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن 16 فٹ اونچی لہروں نے اس کام کو بےحد مشکل بنا دیا ہے۔

اتوار کو تلاش اور بچاؤ کے ادارے کے سربراہ بمبانگ سوئلیستو نے کہا کہ ایک پانچواں جسم بھی تلاش کر لیا گیا ہے جس کی لمبائی 32 فٹ اور چوڑائی ساڑھے تین فٹ کے قریب ہے اور یہ سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا ہے۔

انڈونیشیا اور روس سے تعلق رکھنے والے درجنوں غوطہ خور تلاشی کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ تلاشی کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے کیوں سمندر میں تلاطم کی وجہ سے لاشیں اور ملبے کے حصے دور دور تک پھیل گئے ہیں۔

تلاش اور بچاؤ کے ادارے کے نائب سربراہ تتانگ زین الدین نے کہا ’اس مہم میں ہمارا مقابلہ وقت اور موسم سے ہے۔‘

اس سے قبل حادثے کے مقام سے قریبی شہر پنگ کلان بن میں محکمۂ موسمیات کے سربراہ رکمان صالح نے کہا تھا کہ اتوار اور پیر کو موسم اتنا صاف ہو جائے گا کہ اس سے تلاشی کی کارروائیوں میں مدد ملے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ابھی تک پینتیس لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں

ایک اور عہدے دار ایس بی سپریادی نے کہا کہ 95 غوطہ خور موسم بہتر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم پانی کے اندر تلاش پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ ہم مزید لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

انڈونیشیا کے محکمۂ موسمیات نے کہا کہ ہے کہ جہاز کے غائب ہونے کے وقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز ممکنہ طور پر طوفان میں گِھر گیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ہوا اتنی یخ بستہ تھی کہ اس نے جہاز نیچے گرا دیا۔

اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے بحیرۂ جاوا میں گر کر تباہ ہونے والے ایئر ایشیا کے مسافر بردار طیارے کے پاس حادثے والے دن پرواز کا لائسنس ہی نہیں تھا۔

اس پرواز کو صرف ہفتے کے دیگر چار دنوں میں اس ہوائی راستے پر پرواز کرنے کی اجازت تھی۔

انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اب سورابايا سے سنگاپور جانے والی ایئر ایشیا کی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

اسی بارے میں