پہلے سیاہ فام سینیٹرایڈورڈ بروک انتقال کر گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایڈورڈ بروک رپبلکن پارٹی میں ایک لبرل کی حیثیت سے مشہور تھے

امریکہ کے پہلے سیاہ فام سینیٹر ایڈورڈ بروک 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ایڈورڈ بروک 1966 میں میسی چیوسٹ سے ایک ایسے وقت کانگرس کے رکن منتخب ہوئے تھے جب ملک میں وسیع پیمانے پر نسلی بدامنی پائی جاتی تھی۔

ایک قانون دان ہونے کے ناطے وہ پہلے افریقی امریکی تھے جنہوں نے کسی ریاست میں اٹارٹی جنرل کی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہوں۔

صدر براک اوباما نے کہا کہ سینیٹر بروک نے ’پبلک سروس‘ میں ایک غیر معمولی زندگی گزاری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایڈورڈ بروک شہری آزادیوں اور معاشی مساوات کے محاذوں پر ہمیشہ صفۂ اول میں رہے ہیں۔

میسی چویسٹ کے گورنر ڈیول پیٹرک نے کہا کہ ’میں نے ایک دوست اور استاد کھو دیا ہے۔‘

سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے قائد میچ میکونل نے کہا کہ ’سینیٹر بروک کی کامیابیاں یہ باور کراتی ہیں کہ اس ملک میں ہر چیز ممکن ہے۔‘

سینیٹر بروک سنہ 1979 تک سینٹ کے رکن رہے اور براک اوباما سمیت وہ اُن نو افریقی امریکیوں میں شامل ہیں جن کو یہ اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔

سینیٹر بروک نے سینیٹ کی رکنیت کے دوران رپبلکن لبرل کی ساکھ بنائی۔

انھوں نے رپبلکن صدر رچرڈ نکسن کی مخالفت کی اور وہ پہلے رپبلکن سینیٹر تھے جنھوں نے واٹر گیٹ سکینڈل کے بعد صدر نکسن سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے سنہ 1968 میں ’فیئر ہاوسنگ ایکٹ‘ کے منظور کیے جانے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز ختم ہوا۔

سینیٹر بروک سنہ 1972 میں واضح اکثریت سے دوبارہ کانگرس کے رکن منتخب ہوئے اور جب تیسری مرتبہ وہ انتخاب لڑنے لگے تو ان کی طلاق معاملہ کھڑا ہو گیا اور 49000 ڈالر کے قرضے کے بارے میں غلط بیان دینے پر ان کے خلاف کئی سوالات کھڑے ہوگئے۔

وہ سنہ 1978 میں انتخاب میں کامیاب نہ ہو سکے اور وہ پھر وکالت کرنے لگے۔

سنہ 2002 میں ان کو چھاتی کا سرطان ہو گیا۔ چھاتی کا کینسر اکثر خواتین کو ہوتا ہے لیکن مردوں میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے سے انھیں ایک قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہو گئی۔