امریکی پابندیاں معاندانہ ہیں، شمالی کوریا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ نے پہلے ہی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کے خلاف سائبر حملوں کے تناظر میں کارروائی کی ہے

سونی کمپنی پر سائبر حملے کے نتیجے میں شمالی کوریا پر امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو شمالی کوریا نے امریکہ کی بے بنیاد اور معاندانہ پالیسی سے تعبیر کیا ہے۔

امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے پیونگ یانگ پر الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکہ نے شمالی کوریا کی تین تنظیموں اور دس افراد پر پابندی لگائی ہے۔

واضح رہے شمالی کوریا نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم انھوں نے سونی پکچرز پر ہونے والے سائبر حملے کی تعریف کی ہے۔

یہ حملہ سونی پکچرز کی جانب سے فلم ’دا انٹرویو‘ کی ریلیز سے قبل ہوا تھا۔ اس فلم میں شمالی کوریا کے رہنما کے قتل کے منصوبے کو دکھایا گيا ہے۔

سونی نے حملے کے بعد پہلے فلم نہ دکھانے کا عندیہ دیا تھا تاہم بعد میں اس نے امریکی صدر سمیت متعدد تجزیہ نگاروں کے تبصرے کے بعد اسے محدود پیمانے پر ریلیز کیا تھا۔

تازہ پابندیاں جمعے کو لگائی گئی ہیں جو کہ کسی امریکی کمپنی پر کیے جانے والے حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے کسی ملک کو سزا دیے جانے کا پہلا واقعہ ہے۔

امریکی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ قدم شمالی کوریا کے ’اشتعال انگیز اور غیر مستحکم کن اقدامات‘ کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

اس کے جواب میں شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’امریکہ کی شمالی کوریا کا دم گھونٹنے کی پالیسی پر مسلسل عمل اور اس کے خلاف بے بنیاد پرخاش کے نتیجے میں صرف اس کا ارادہ مضبوط ہوگا کہ وہ اپنے ملک کی خودمختاری کا دفاع کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’گارڈیئن آف پیس‘ نامی گروپ کے ہیکروں نے لوگوں کو سونی کمپنی کی فلم ’دی انٹرویو‘ نہ دیکھنے کی تنبیہ کی تھی

’واشنگٹن کا شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا لگاتار اور یک طرفہ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ابھی تک شمالی کوریا سے قدیمی قابل نفرت اور معاندانہ رویہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔‘

شمالی کوریا نے امریکہ پر کئی گھنٹوں تک ملک سے انٹرنیٹ کے رابطے منقطع کرنے کا الزام لگایا ہے۔

امریکہ نے پہلے ہی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کے خلاف سائبر حملوں کے تناظر میں کارروائی کی ہے۔

’گارڈیئن آف پیس‘ نامی گروپ کے ہیکروں نے گذشتہ برس نومبر کے آخر میں سونی کمپنی کے کمپیوٹروں سے حساس معلومات چرائی تھیں اور انھیں عام کر دیا تھا۔

انھی ہیکروں نے لوگوں کو سونی کمپنی کی فلم ’دی انٹرویو‘ نہ دیکھنے کی تنبیہ کی تھی۔ یہ مزاحیہ فلم شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے قتل کے منصوبے کے بارے میں ہے اور اسے کرسمس پر چنندہ سنیماؤں اور انٹرنیٹ پر ریلیز کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں