2014 شام کے لیے نااُمیدی کا سال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2014 کے دوران صرف ایک برس ہی میں 70,000 سے زائد لوگوں نے جانیں گنوائیں

جنوری سنہ 2014 میں جینوا میں ہونے والے امن مذاکرات اور جنوری 2015 میں ماسکو متوقع امن بات چیت کے درمیان کے 12 ماہ شام میں بغاوت کے آغاز کے بعد سے مہلک ترین وقت ثابت ہوئے ہیں۔

گذشتہ برس اس وقت متوقع امن کانفرنس سے خاصی امیدیں وابستہ تھیں۔

اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس کی حمایت سے ہونے والے جنیوا مذاکرات میں شامیوں کو خونریزی کے خاتمے کی پیش کش کی گئی تھی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں اور حکومت اور حزبِ اختلاف کسی ایجنڈے پر متفق نہیں ہو پائے اور اس بات چیت کے دوران ایک ہزار افراد مارے گئے۔ باقی کے ایک برس میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں گنوائیں۔

اُس وقت کے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر براہیمی نے مذاکرات کی ناکامی پر شامی باشندوں سے معافی مانگی تھی اور کچھ ماہ بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

2014 شامی حزبِ اختلاف کے لیے شکست اور مایوسی اور صدر بشارالاسد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا لیکن اس کی بہت بڑی قیمت شہریوں نے ادا کی۔

حکومت پورا سال نام نہاد جنگ بندی کا پرچار کرتی رہی جبکہ در پردہ وہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہتھیار ڈالنے کے لیے فاقہ کشی کی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔

قدیم شہر حمص کا محاصرہ تین برس بعد اس وقت ختم کیا گیا جب باغیوں کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے ایرانی جنگجوؤں کی رہائی کے لیے معاہدہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد اردن، لبنان، ترکی، عراق اور مصر میں قیام پذیر ہے

اس محاصرے کے خاتمے کے فوراً بعد ہی شمال مغربی قصبے الویر پر حملہ کر دیا گیا جہاں ہزاروں بے گھر شہری پناہ لیے ہوئے تھے۔ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں میں محاصرے ختم کیے گئے لیکن انھیں بہت جلد دوبارہ گھیرے میں لے لیا گیا۔

دمشق کے جنوبی کنارے پر واقع فلسطینی مہاجرین کے لیے قائم کیمپ بھی ان مقامات میں سے ایک تھا جن کا دوبارہ محاصرہ کیا گیا۔

نومبر میں لندن میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں الاخضر براہیمی کا کہنا تھا کہ ’شامی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کا منصوبہ دراصل جنگ کا منصوبہ تھا نہ کہ امن کا۔‘

شامی حکومت صرف ایک ہی پیغام دینا چاہتی ہے اور وہ یہ کہ جیت طاقت کی ہوگی اور سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے صدر بشار الاسد کے اقتدار کی بقا ایران اور روس کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

ایسے میں جب بشار الاسد کی حکومت خود کو فاتح سمجھتے ہوئے شام کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں، وہاں ایک تیسری قوت سر اٹھا رہی ہے جو حکومت اور باغیوں دونوں کو ہی اپنا دشمن مانتی ہے۔

یہ قوت دولتِ اسلامیہ ہے، جس نے شام اور عراق میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں خلافت کا اعلان کر رکھا ہے۔ دولتِ اسلامیہ کا عروج شامی انقلابیوں کے لیے دوسری شکست ہے جو آزادی اور جمہوریت کے حامی ہیں کیونکہ اب انھیں دو محاذوں پر لڑنا ہو گا۔

دولتِ اسلامیہ چاہتی ہے کہ سنہ 1916 میں قائم کی گئی سرحدی حدود کا خاتمہ کر دیا جائے۔ گو کہ ان جہادیوں نے 2013 کے اوائل میں ہی حکومت کو للکارا تھا تاہم حکومت اب تک ان کے گڑھ الرقہ میں بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے تین یرغمالیوں کے سر قلم کیے جانے کے بعد امریکی قیادت میں عالمی فورسز نے ماہِ ستمبر میں دولتِ اسلامیہ کے بعض ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ اس وقت تک دولتِ اسلامیہ سینکڑوں شامی باشندوں کے سر قلم کر چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ کا عروج شامی انقلابیوں کے لیے دوسری شکست ہے جو آزادی اور جمہوریت کے حامی ہیں کیونکہ اب انھیں دو محاذوں پر لڑنا ہوگا

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی حملوں کے پہلے ہفتے بشار الاسد کی فورسز نے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں 600 فضائی حملے اور بیرل بم حملے کیے۔ ان حملوں کا شکار ہونے والی اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

سال کا اختتام عالمی ادارۂ خوراک کے اس اعلان کے ساتھ ہوا جس کے مطابق اس نے فنڈز کی کمی کے باعث اردن، لبنان، ترکی، عراق اور مصر میں شامی باشندوں کے لیے خوراک کی فراہمی معطل کر دی۔

گو کہ بعد ازاں رقم ملنے پر یہ امداد بحال کر دی گئی لیکن اس سے یہ بات اجاگر ہو گئی کہ شام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کس طرح ناکام ہو رہی ہے، حتٰی کہ انسانی امداد کے معاملے میں بھی۔

اس واقعے سے ان شبہات میں بھی اضافہ ہوا کہ عالمی برادری شامی کی جنگ کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو بھی سکتی ہے یا نہیں۔

اب دنیا کی نظر شام کے لیے نئے امن منصوبے پر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک کار آمد ثابت ہو تا ہے لیکن اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بشارالاسد کی فوجیں اور باغی آپس میں کتنا تعاون کرتے ہیں۔

رواں ماہ کے اختتام پر روس ایک اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے بعض ارکان شرکت کریں گے۔ تاہم ناقدین ان بے نتیجہ کاوشوں کو محض وقت گزاری قرار دے رہے ہیں۔

اس سارے عرصے میں ایک عام شامی باشندہ ہمت، یقین اور امید کھو چکا ہے۔ اب اس کا مقصد یورپ کا ویزا حاصل کرنا یا کشتی کا غیر قانونی خطرناک سفر رہ گیا ہے۔

اسی بارے میں