کیوبا نے ’امریکی سیاسی قیدی رہا کر دیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ماہ اپنی انتظامیہ کو کیوبا کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا حکم دیا تھا

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کیوبا نے امریکی فہرست میں شامل 53 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین ساكي کا کہنا تھا کہ امریکہ فہرست میں موجود ان تمام قیدیوں کی رہائی کی امید کر رہا تھا تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ فی الحال کن لوگوں کو رہا کیا گیا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق کیوبا نے پہلے ہی چند قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم ہم چاہیں گے کہ مستقبل میں تمام قیدی رہا ہو جائیں۔

جین پساکی کا کہنا تھا کہ فہرست کو امریکہ اور کیوبا کی حکومت کے ساتھ انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو آخری بحث کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ماہ اپنی انتظامیہ کو کیوبا کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا حکم دیا تھا۔

امریکہ اور کیوبا کے تعلقات 1960 کی دھائی میں اس وقت سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے جب کیوبا کے انقلاب کے بعد امریکہ نےسفارتی تعلقات توڑ کر کیوبا پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔

دوسری جانب صدر اوباما کے مخالفین نے کیوبا میں انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

سینیٹر مارکو روبیو نے دونوں ممالک کے درمیان کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اس ماہ ہونے والے مذاکرات کو تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی تک منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کیوبا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور سیاسی نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کچھ نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں