جرمنی میں اسلام کی مخالفت اور حمایت میں ریلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کے مطابق ڈریسڈن میں اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ نے 18 ہزار افراد پر مشتمل ایک ریلی نکالی

جرمنی میں سیاستدانوں اور مشہور شخصیات نے ملک کے مختلف شہروں میں جاری اسلام مخالف ریلیوں کے خلاف میڈیا کی ایک مہم میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

جرمنی میں اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ ’مغرب کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف ریلیاں منعقد کر رہی ہے اور ان ریلیوں کی مخالفت میں میڈیا نے ایک مہم شروع کی ہے۔

جرمن اخبار ’بلڈ‘ کی طرف سے شروع کی گئی اس مہم کی حمایت سابق چانسلر ہلمٹ، اداکارہ کیروکائن ہرفرت اور ریٹائرڈ فٹ بالر اولیور بئیر ہوف کے علاوہ 80 کے قریب مشہور شخصیات نے کی ہے۔

جرمنی کے مختلف شہروں میں ’مغرب کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ اور اس تنظیم کے مخالفین نے ریلیاں نکالیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق چانسلر ہلمٹ، اداکارہ کیروکائن ہرفرت اور فٹ بالر اولیور بئیر ہوف کے علاوہ اسی کے قریب مشہور شخصیات نے ’پیگیڈا‘ مخالف کمپین کو جوائن کیا ہے

اس ریلی کا انتظام اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ (پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) نے کیا تھا جو اکتوبر سے ہر ہفتے ریلی نکالتی ہے۔

حکام کے مطابق ڈریسڈن میں اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ کی ریلی میں 18 ہزار افراد نے شرکت کی۔

اسی طرح برلن، کولون اور سٹٹگرٹ میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔

’پیگیڈا‘ کی اسلام مخالف ریلیوں کے خلاف جرمنی کے شہروں برلن، کولگنی، ڈریسڈن اور سٹٹگرٹ میں بھی ہزاروں لوگ نے سڑکوں پر مظاہرے کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمنی میں ’پیگیڈا‘ مخالف احتجاجی مظاہروں میں شدت آ رہی ہے

جرمن اخبار ’بلڈ‘ کے مطابق جن شخصیات نے ’پیگیڈا‘ کے خلاف ان کی مہم میں شمولیت اختیار کی ہے، وہ ان کو انتہا پسندی اور نفرت کو مکمل طور پر مسترد کرنے، برداشت اور بھائی چارے کی مہم میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

ایک اور سابق چانسلر گیرڈ شیراڈ اور ٹی وی پریزنٹر تھامس گوٹسچاک نے بھی ’پیگیڈا‘ کی اسلام مخالف ریلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ برلن میں پیر کے روز پانچ ہزار کے قریب احتجاجی مظاہرین نے احتجاج میں مصروف ’پیگیڈا‘ کے چند سو حمایتوں کا راستہ بلاک کر دیا۔

خبر رساں ایجنسی ڈی پی ایس کے مطابق سٹٹگرٹ، مووینسٹر اور ہیمبرگ میں 22 ہزار لوگوں نے ’پیگیڈا‘ کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹٹگرٹ، مووینسٹر اور ہیمبرگ میں بائیس ہزار لوگوں نے ’پیگیڈا‘ کے خکاف احتجاجی ریلیاں نکالیں

کولوگنی میں شہر کے سب سے بڑے گرجا گھر میں بجلیاں بجھا کر ’پیگیڈا‘ کے حمایتوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ وہ انتہا پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

کیتھڈرل کے ڈین ناربرٹ فلڈہوف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کہ خیال میں’پیگیڈا‘ کی ریلیوں کو احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن وہ ان سخت پسند عیسائیوں کو متنبہ کرنا چاہیں گے جو کہ ’پیگیڈا‘ کی حمایت کر رہے ہیں۔

کولوگنی میں ’پیگیڈا‘ کی حمایت میں صرف ڈھائی سو افراد باہر نکلے جب کہ ان کی مخالفت میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا

برلن پولیس کے مطابق برلن میں پانچ ہزار افراد پر مشتمل ریلی نے اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ کی ریلی کا راستہ روکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’پیگیڈا‘ کے اس حامی کے پلے کارڈ پر لکھا ہوا ہے، ’یورپ کی اسلامائزیشن قبول نہیں‘

سٹٹگرٹ، اور دیگر شہروں میں 22 ہزار افراد نے اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ کے خلاف ریلیاں نکالیں۔

اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ (پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) کا دعویٰ ہے کہ جرمنی پر ایک لحاظ سے مسلمانوں اور دیگر تارکینِ وطن سے قبضہ کر لیا ہے۔

’پیگیڈا‘ نے اس قسم کے جلسے جلوسوں کا آغاز رواں برس اکتوبر سے کیا تھا اور ڈریسڈن کی ریلی اس سلسلے کی دسویں اور اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔

خیال رہے کہ جرمنی میں اس سال پناہ گزینوں کی تعداد میں دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ شامی پناہ گزینوں کی جرمنی آمد کو قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 2014 میں دو لاکھ افراد نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دیں جبکہ 2013 میں یہ تعداد ایک لاکھ 27 ہزار تھی۔

اسی بارے میں