دولتِ اسلامیہ اور ریاست کا تصور

داعش تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ اور اس کے عرب حلیف دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں لیکن برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے ایسا نہیں کیا ہے

جہاز، بم، اور کمانڈوز اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہیں لیکن اس کے پس منظر میں خیالات کی ایک اہم جنگ سب سے بڑے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اصل میں ریاست کیا ہے۔

تقریباً ہر سیاستدان، ماہر اور مبصر اس بھی پر متفق ہے کہ دولتِ اسلامیہ ریاست نہیں ہے بلکہ دولتِ اسلامیہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دولتِ اسلامیہ ہے کیا: ویڈیو رپورٹ

یہ بالکل واضع بھی ہے۔ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ویڈیوز میں سر قلم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انھوں نے شہر اور دیہات لوٹ ڈالے ہیں۔ جس کسی نے بھی ان کے اسلام کے برانڈ سے مخالفت کی کوشش کی انھوں نے یا تو اسے مار دیا یا مارنے کی دھمکی دے دی۔

انھوں نے عراق اور شام سے علاقے چھین لیے۔ ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اقوامِ متحدہ یا کوئی اور بین الاقوامی تنظیم انھیں رکنیت دے یا انھیں قبول کرے۔

Image caption شام میں اس وقت امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی جہاز دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں

سو امریکی طیارے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بیان کیے گئے بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول توڑے بغیر بمباری کر سکتے ہیں۔

چارٹر کے مطابق کوئی بھی رکن ملک کسی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کا استعمال نہیں کر سکتا۔

لیکن یہاں دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایکشن لینے میں ایک مسئلہ بھی ہے۔ کسی بھی زمین کے ٹکڑے پر بم پھینکنا بہت مشکل ہے کیونکہ کوئی نہ کوئی اٹھ کر آپ پر الزام لگا سکتا ہے کہ آپ اس کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی پر حملہ کر رہے ہیں۔

عراق کی حالیہ حکومت نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی باقاعدہ درخواست کی تھی۔ اس طرح عراق میں دولتِ اسلامیہ پر بم گرانے کا سیاسی اور قانونی دفاع کیا جا سکتا ہے۔

لیکن شام نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ بشار الاسد شام کے صدر ہیں اور شام ایک خود مختار ریاست ہے۔ صدر اسد نے نہ تو فضائی حملوں کی درخواست کی اور نہ ہی ان پر رضا مندی ظاہر کی۔

حالانکہ صدر براک اوباما نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’ہم نے شامی حکومت کو کہہ دیا ہے کہ جب ہم دولتِ اسلامیہ کا تعاقب کرتے ہوئے ان کی فضائی حدود میں داخل ہوں تو ان کے لیے مشورہ ہے کہ وہ ہمیں نشانہ نہ بنائیں۔‘

’لیکن اس کے علاوہ ہم سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ہم اسد کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد کریں گے اور وہ اس ملک میں معتبر نہیں ہے۔‘

شام ریاست کے سب تقاضے پورے کرتا ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی نہیں سمجھتے کہ اس کی حکومت قانونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے اپنے آپ کو ایک ریاست دکھانے کے لیے اپنا جھنڈا بنایا ہے

یہ کافی ہے کہ شام کی خود مختاری کے سب سے ضروری حقوق پامال کر دیے جائیں اور اس کو تقریباً غیر ریاست بنا دیا جائے۔ مغربی ممالک نے جن میں برطانیہ بھی شامل ہے شام کے اندر ٹھکانوں پر حملوں پر بمباری میں حصہ نہیں لیا، اگرچہ وہ دولتِ اسلامیہ مخالف اتحاد کا حصہ ہیں۔

ایسا کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اس کہانی میں ریاستی حیثیت کے تین مختلف تصور ہیں۔

شام

اقوامِ متحدہ کا رکن جس کی سرحدوں کی وضاحت کی گئی ہے، علاقے پر جزوی کنٹرول ہے، مغرب اس کی حکومت کو ناپسند کرتا ہے، بظاہر اپنے علاقے کی حفاظت کا حق نہیں رکھتا۔

عراق

اقوامِ متحدہ کا رکن جس کی سرحدوں کی وضاحت کی گئی ہے، علاقے پر جزوی کنٹرول، مغرب اس کی حکومت کو پسند کرتا ہے، اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے مدد حاصل کر سکتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ

یکطرفہ طور پر خلافت کا اعلان، اقوامِ متحدہ کی رکنیت نہیں، سرحدیں واضح نہیں، علاقے پر تھوڑا بہت کنٹرول، حکومت جس کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا اور اپنے علاقوں کی حفاظت کا کوئی حق نہیں۔

دولتِ اسلامیہ کی حمایت کوئی ریاست نہیں کرتی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی حیثیت کی عالمی طور پر مانی جانے والی کوئی تعریف ہے ہی نہیں۔

لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سنہ 1930 میں ریاستی حیثیت کے مطلب کو قانونی طور پر مانٹیوڈیو کنونشن میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس میں کہا گیا تھا کہ’ریاست کی ایک مستقل آبادی ہوتی ہے، ایک واضح علاقہ ہوتا ہے، ایک حکومت اور دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں