کوبانی کے اہم ضلعے کے 80 فیصد حصے پر کُرد جنگجوؤں کا قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے اس علاقے پر ستمبر میں حملہ کیا تھا اور جلد ہی اس پر قبضہ کر لیا تھا

اطلاعات کے مطابق کرد جنگجوؤں نے شمالی شام میں واقع کوبانی کے ایک اہم علاقے کے 80 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

کرد جنگجوؤں نے یہ علاقے دولتِ اسلامیہ سے حاصل کیا ہے۔

کرد جنگجوؤں نے عراقی پیشمرگا فورسز کے ہمراہ سکیورٹی ضلعے کے 80 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس میں پولیس ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے اس علاقے پر ستمبر میں حملہ کیا تھا اور جلد ہی اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

برطانیہ میں قائم دی آبزرویٹری جو شام میں جاری جنگ پر نظر رکھے ہوئے ہے کا کہنا ہے کہ کرد جنگجوؤں نے اتوار کی رات شدید لڑائی کے بعد علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔

کوبانی میں موجود سرکاری اہلکار ادریس نسان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوبانی کے اہم ضلعے کے 80 فیصد علاقے کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کوبانی کے دو مشرقی اضلاع پر دولت اسلامیہ کا اب بھی قبضہ ہے۔

’امید ہے کہ آئندہ چند روز میں مشرقی اضلاع بھی دولت اسلامیہ سے آزاد کرا لیے جائیں گے۔ کرد جنگجوؤں کی پیش قدمی میں تیزی آئی ہے اور فضائی حملے بھی تیز کردیے گئے ہیں۔‘

کوبانی میں لڑائی کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک اور تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ترکی میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے۔

امریکی کی سربراہی میں اتحادی فورسز کی فضائیہ کرد فورسز کی مدد کرتی ہے جو کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ترکی نے عراق سے تعلق رکھنے والے بعض کرد جنگجوؤں کو ترک علاقے سے گزر کر کوبانی میں کرد سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے کے لیے جانے کی اجازت دی ہے۔

خیال رہے کہ شام و عراق کے وسیع علاقے پر دولت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں