تیل کی قیمت پانچ برسوں کی کم ترین سطح پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مانگ میں کمی اور اضافی سپلائی قیمتوں میں مزید کمی کا باث بن سکتی ہے۔

تیل کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گذشتہ پانچ سالوں کی کم ترین سطح 52.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے پہلے پیر کو قیمتوں میں 6 فیصد کمی ہوئی تھی اور اس وقت مئی 2009 کی سطح پر ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے یورپ کو فراہم کیے جانے والے تیل کی قیمت میں کٹوتی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنی ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب نے ایشیائی ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ کے لیے تیل کی قیمت میں کمی سعودی عرب کی جانب سے اس منڈی میں اپنے حصے کے دفاع کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔

منگل کے روز امریکی تیل 48.54 ڈالر فی بیرل کی قیمت کے ساتھ 2009 کے بعد پہلی بار 50 ڈالر فی بیرل سے نیچے گرگیا تاہم بعد میں بہتری آئی اور 52.27 پر پہنچ گئی۔

خیال رہے کہ 2014 کے وسط سے اب تک تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

سرمایہ کار فکر مند ہیں کہ مانگ میں کمی اور اضافی سپلائی قیمتوں میں مزید کمی کا باث بن سکتی ہے۔

چٹانی پتھر سے تیل نکالنے کے عمل میں ترقی کی وجہ سے امریکی تیل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

مگر امریکی تیل کی پیداوار میں اضافہ اس وقت ہوا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی مانگ میں کافی کمی آ چکی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2014 میں روس کی تیل پیداوار اور عراق جو اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، کی پیدار میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں