کیوبا نے امریکی مطالبے پر کئی قیدی رہا کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ اور کیوبا کے تعلقات سفارتی تعلقات 1961 سے معطل تھے

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ کیوبا کی حکومت نے 53 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جو کہ امریکی فہرست میں شامل تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جن ساکی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کیوبا کو دی گئی سیاسی قیدیوں کی فہرست میں شامل تمام لوگوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ رہا کیے گئے ان 53 سیاسی قیدیوں میں کون شامل ہے۔

امریکی صدر اوباما نےگذشتہ ماہ ایک تاریخی فیصلے میں امریکی حکام کو کیوبا کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق استوار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

کئی دہائیوں کے بعد اس فیصلے کو امریکی خارجہ پالیسی کی ایک تاریخی تبدیلی سے تعبیر کیا گیا۔

اسی ماہ امریکہ اور کیوبا کے حکام ہوانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

جن ساکی کے مطابق کیوبا نے کئی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا ہے اور وہ مستقبل قریب میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا ہوتے دیکھنا چاہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کیوبا کو فراہم کی گئی لسٹ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے کیوبا سے آخری مطالبات نہیں ہوں گے۔

امریکہ میں صدر اباما کے مخالفین نے کیوبا سے تعلقات بہتر کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کیوبا کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

صدر اوباما کے ناقد سینیٹر مارکو روبیو نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی تک کیوبا سے مذاکرات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹر روبیو سمیت کیوبن نژاد کئی ایک امریکی سینیٹرز کا خیال ہے کہ صدر اوباما کے فیصلے سے کیوبن حکومت کی آمدنی تو بڑھے گے لیکن وہ ساتھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیوبا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات کو آہستہ کرنے یا مکمل طور پر روکنے کی کوشش کریں گے۔

امریکی کانگریس صدر اباما کی کیوبا کے بارے میں پالیسی پر آئندہ چند ہفتوں میں غور کرے گی۔

اسی بارے میں