بھارت میں کوئلے کی ہڑتال جاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹس کے مطابق بھارت کی 75 فیصد کوئلے کی پیداوار جو 10 لاکھ ٹن ہے، اس ہرتال سے متاثر ہے۔

بھارت میں حکومت اور مزدور تنظیموں کے درمیان مذاکرات میں ناکامی کے بعد کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی۔

حکومت کے خلاف کارکنوں نے پانچ دن احتجاجی ہڑتال کا علان کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے کوئلے کی پیدوار کونجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے فیصلے کے خلاف لاکھوں کان کن سراپا احتجاج ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کی کوئلے کی مجموعی پیداوار 15 لاکھ ٹن یومیہ کا 75 فیصد حصہ اس ہڑتال سے متاثر ہو رہا ہے۔

بھارت دنیا میں سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے جس کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ کوئلے سے پوری ہوتا ہے۔

بھارت کی حکومت کے تحت چلنے والی سرکاری کمپنی ’ کول انڈیا‘ کے 37 لاکھ ملازمین کی نمائندگی کرنے والی مزدوروں کی پانچ تنظیموں نے یہ ہڑتال شروع کی تھی۔ کول انڈیا کو بھارت کی کوئلہ پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور اسے کوئلے کی صنعت پر تقریباً اجارہ داری حاصل ہے۔

مزدور رہنما رہنما گرداس دسگپتا نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ف پ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ ناکام مذاکرات کی وجہ سے ملک میں 1977 کے بعد یہ سب سے بڑی ہڑتال ہے۔

لمبی ہڑتال سے ملک کے کئی پاور پلانٹس (بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں) کو کم کوئلہ فراہم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ بڑے پیمانے پر بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

بھارت کی نئی حکومت نے اکتوبر میں یہ عہد کیا تھا کے وہ بھارت کی گرتی ہوئی معیشت کو فروغ دینے کے لیے نجی کمپنیوں کے لیے کوئلے کی صنعت کھول دیں گے۔

حکومت نے ایک ایسے آرڈیننس کی منظوری دی جس سے اپنے استعمال کے لیے نجی کمپنیوں کو کوئلے کی کانوں کی نیلامی کی اجازت دی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں تجارتی کان کنی کی اجازت بھی دی ہے۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے پچھلے سال 200 سے زیادہ کان کنی کے لائسنس منسوخ کیے جو گزشتہ حکومتوں کی طرف سے جاری کیے گئے تھے اور ان لائسنسوں میں مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے حکومت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

عدالت کا یہ کہنا ہے کے سابقہ حکومتوں نے کوئلے کی کانوں کے حقوق جس انداز میں ریاستی اور نجی کمپنیوں کو دیے وہ منصفانہ اور شفاف نہیں تھے۔

اسی بارے میں