پیرس: حملہ آوروں کی تلاش تیسرے دن میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس میں بدھ کو’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مشہور رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملہ کرنے والے مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے پیرس کے شمال مشرقی دیہی علاقوں میں خصوصی فورسز کی مدد سے ایک بڑا سرچ آپریشن جاری ہے۔

مشتبہ حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے بدھ کو آپریشن شروع کیا تھا۔

پولیس ولر کوتریت نامی قصبے کے نزدیکی علاقوں میں تلاش کر رہی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق دونوں مشتبہ حملہ آوروں نے ایک پیٹرول پمپ لوٹا تھا۔

پولیس قریبی لونگ پورٹ گاؤں کا محاصرہ کر کے مشتبہ حملہ آوروں شریف اور سعید کوچی کو ڈھونڈنے کے لیے گھر گھر تلاشی لے رہی ہے جبکہ داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

حملہ آوروں کی تلاش جاری، پیرس میں دوبارہ فائرنگ

’ایک ایک سیکنڈ کی پلاننگ ہوئی تھی‘

پیرس میں سیاسی جریدے کے دفتر پر فائرنگ سے 12 ہلاکتیں

فرانس کے وزیرِ داخلہ کے مطابق پیرس میں حملے کے بعد ملک میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور فوج کے اضافی 88 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس میں بدھ کو’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے

بدھ کو چارلی ایبڈو کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو رسالے کے دفتر پر کیے جانے والے حملے اور جمعرات کو پیرس کے ایک میٹرو سٹیشن پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون پولیس اہلکار کی ہلاکت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

حکام کے مطابق پیرس کے میٹرو سٹیشن پر حملہ کرنے والا مسلح شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

فرانس کے حکام نے دارالحکومت پیرس کی سکیورٹی پہلے ہی سے ہائی الرٹ کر رکھی ہے جبکہ پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی یونٹ ملک کے شمال میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ کرنے والے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فرانس میں لوگوں نے جمعرات کو بھی چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کیں اور گرینج کے معیاری وقت کے مطابق شام سات بجے ایفل ٹاور کی بتیاں بجھا دی گئیں۔

فرانس میں جمعرات کو عوامی مقامات پر ایک منٹ کی خاموش اختیار کی گئی اور چارلی ایبڈو کے دفتر کے باہر سینکڑوں افراد نے اکٹھے ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کو یاد کیا۔

اس کے علاوہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان نے بھی کھڑے ہو کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

ادھر فرانس میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فرانس کے علاقے پوٹیئرز کی ایک مسجد جبکہ جنوبی حصےمیں واقعہ اوڈی میں ایک دوسری عبادت گاہ پر فائرنگ کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس میں لوگوں نے جمعرات کو ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملے میں ہلاک ہونے والے 12 افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شمعیں روشن کیں اور گرینج کے معیاری وقت کے مطابق شام سات بجے ایفل ٹاور کی بتیاں بجھا دی گئیں

فرانس کے وزیرِ داخلہ نے اس واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عبادت کرنے والی کسی بھی جگہ پر ایسی حرکت کو برداشت نہیں کریں گے۔

اس سے قبل فرانسیسی میڈیا کا کہنا تھا کہ چارلی ایبڈو پر فائرنگ کرنے والے دو مشتبہ حملہ آوروں نے آئن کے علاقے میں ولر کوتریت کے قریب واقع سروس سٹیشن لوٹا تھا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق لوٹے گئے سروس سٹیشن کے مینیجر کے مطابق لوٹ مار کرنے والے دونوں افراد مشتبہ حملہ آوروں سے مشابہت رکھتے تھے اور وہ کلاشنکوفوں اور دستی بموں سے مسلح تھے۔

اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ ایک مشتبہ حملہ آور نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ دیگر دو مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے جاری آپریشن کے دوران سات افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ رسالے پر حملے کرنے والے تین مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ان میں ایک 32 سالہ شریف ہیں اور ان کے 34 سالہ بھائی سعید۔ تیسرے حملہ آور کا نام حمید مراد ہے اور ان کی عمر 18 سال ہے۔

اسی بارے میں