خام تیل کی قیمت چھ برسوں میں پہلی بار 50 ڈالر سے نیچے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جون 2014 کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں نصف سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی جاری ہے جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت مئی سنہ 2009 کے بعد سے پہلی بار کم ہو کر 50 امریکی ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

بدھ کو ہونے والی تجارت کے ابتدائي رجحان کے پیش نظر تیل کی قیمت میں فی بیرل ایک ڈالر سے بھی زیادہ کی کمی واقع ہوئی اور اب یہ 49.92 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں عالمی معیشت کی ترقی کی رفتار میں سست رفتاری اور تیل اور گیس کی فراہمی میں اضافے کے سبب ان کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکہ میں تیل کی قیمت پہلے ہی 50 ڈالر فی بیرل سے نیچے جا چکی تھی۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شمالی امریکہ نے تیل اور گيس کی فراہمی میں اضافہ کیا ہے، اس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پیداوار میں کمی کے خلاف ہے۔

سی ایم سی مارکیٹس کے تجزیہ نگار مائیکل ہیوسن نے کہا: ’ہمیں اوپیک کی جانب سے پیداوار پر کنٹرول کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی ہے اس لیے آنے والے ہفتوں میں اس کی قیمت میں مزید کمی آئے گی اور یہ 40 ڈالر فی بیرل کی جانب آئے گا۔‘

ایک جانب جہاں بہت سے صارف ممالک نے تیل کی قیمت میں کمی کو خوش آئند بتایا ہے، وہیں روس اور وینزویلا اپنی اہم برآمدات کی قیمت میں کمی سے پریشان ہے۔

واضح رہے کہ جون 2014 کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں نصف سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں توازن لانا کسی بھی ملک کے بجٹ کے توازن کی اہم ضرورت ہے۔

اسی بارے میں