حملہ آوروں کی تلاش جاری، پیرس میں دوبارہ فائرنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکام کے مطابق ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مشہور رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملہ کرنے والے دو مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق انھوں نے شہر کے شمال میں واقع ایک سروس سٹیشن کو لوٹا ہے۔

دوسری جانب پیرس کے ایک میٹرو سٹیشن پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہو گیا ہے۔

حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کے واقعے کا تعلق ’چارلی ایبڈو‘ پر حملے سے ہے یا نہیں۔

’ایک ایک سیکنڈ کی پلاننگ ہوئی تھی‘

پیرس میں سیاسی جریدے کے دفتر پر فائرنگ سے 12 ہلاکتیں

فرانسیسی میڈیا کے مطابق ’چارلی ایبڈو‘ پر فائرنگ کرنے والے دو مشتبہ حملہ آوروں نے آئن کے علاقے میں ولر کوتریت کے قریب واقع سروس سٹیشن سے خوراک اور پیٹرول لوٹا ہے۔

لوٹے گئے سروس سٹیشن کے مینیجر کے مطابق لوٹ مار کرنے والے دونوں افراد مشتبہ حملہ آوروں سے مشابہت رکھتے تھے اور وہ کلاشنکوف اور دستی بموں سے مسلح تھے۔

اطلاعات کے مطابق کار میں سوار دونوں مسلح افراد پیرس کی طرف گئے ہیں اور ان کی گاڑی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وہی گاڑی ہے جو چارلی ایبڈو پر حملے کے فوری بعد چھینی گئی تھی۔ ان اطلاعات کے بعد پیرس کے داخلی راستوں پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption پیرس کے داخلی راستوں پر پہلے سے سخت سکیورٹی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے

اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ ایک مشتبہ حملہ آور حمید مراد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ دیگر دو مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے جاری آپریشن کے دوران سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ رسالے پر حملے کرنے والے تین مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ان میں ایک 32 سالہ شریف ہیں اور ان کے 34 سالہ بھائی سعید۔ تیسرے حملہ آور کا نام حمید مراد ہے اور ان کی عمر 18 سال ہے۔

بدھ کو’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 18 سالہ حمید مراد نے شارل ول میزیئر پولیس سٹیشن میں خود کو حکام کے حوالے کیا۔ اطلاعات کے مطابق حمید مراد نے مشتبہ حملہ آور کے طور پر میڈیا میں اپنا نام آنے پر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعرات کو قومی سوگ کا دن قرار دیا۔

انھوں نے کہا ’ہمارا اتحاد ہی ہمارا سب سے بہترین ہتھیار ہے۔‘

ادھر فرانس کے مختلف شہروں میں اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

فرانس میں بدھ کو ہونے والے حملے کو کئی دہائیوں میں سب سے جان لیوا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس حملے کے بعد پورے ملک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور دارالحکومت پیرس میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانس کے چیف پراسیکیوٹر فرانکو مولنز کا کہنا تھا کہ حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے جن میں چار کی حالت نازک ہے

فرانس کے چیف پراسیکیوٹر فرانکو مولنز کا کہنا تھا کہ حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار کی حالت نازک ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق نقاب پوش مسلح افراد اپنی گاڑی چھوڑ کر دوسری گاڑی میں پیرس کے شمال کی جانب فرار ہو گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آوروں کی جانب سے چارلی ایبڈو کے دفتر کے اندر اور باہر کم سے کم 50 گولیوں کی آوازیں سنیں۔

اس سے پہلے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دہشت گردی ہے اور ایک غیرمعمولی ظالمانہ طرز عمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے شمعیں روشن کیں

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو بزدلانہ انداز میں قتل کیا گیا، ہمیں اس وجہ سے دھمکایا گیا کیونکہ ہمارا ملک آزادی پسندوں کا ملک ہے۔‘

دوسری جانب امریکہ کے صدر براک اوباما نے چارلی ایبڈو کے دفتر پر کیے جانے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور جرمن چانسلر انگلیلا میرکل نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔

یورپی یونین کے صدر ژاں کلود یونکر نے کہا ہے کہ انھیں اس ظالمانہ اور غیر انسانی فعل پر صدمہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہلاک شدگان کے لیے اور رسالے کے حق میں مہم شروع ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے شمعیں روشن کیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نےایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ایجنسی اس واقعے کی تفتیش کرنے میں فرانس کی مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں