شام میں داعش کی مذہبی پولیس کے اہلکار اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption داعش عراق کے شمالی اور شام کے کچھ علاقوں پر قابض ہے

شام سے آنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کی طرف سے بنائی جانے والی مذہبی پولیس فورس کے کچھ اہلکار اغوا کر لیے گئے ہیں۔

سرگرم گروہ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ان لوگوں کو مشرقی شہر ميادين سے اغوا کیا گیا۔

اس فورس کا کام تھا کہ وہ داعش کے کنٹرول والے علاقوں میں اس جنگجو گروہ کے اسلامی طرز کو نافذ کریں۔

ان پولیس اہلکاروں کو اسی علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں ان کے ڈپٹی لیڈر کے قتل کے ایک دن بعد اغوا کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں مقیم آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اس فورس کے جسے حسبہ کہتے ہیں، کتنے اہلکار اغوا کیے گئے ہیں۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حسبہ کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان کو سگریٹ نوشی جیسی باتوں کی وجہ سے ذلیل کر رہے ہیں۔

داعش کی پولیس تمباکو والی اشیاء کو جلا دیتی ہے اور سگریٹ پیتے ہوئے پکڑے جانے والے افراد کو سزائیں دی جاتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس فورس کے نائب کمانڈر کو پکڑ کر اذیتیں دی گئیں اور اس کے بعد ان کا سر قلم کر دیا گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ جب ان کا کٹا ہوا سر ملا تو اس کے منہ میں ایک سگریٹ تھا اور قریب ہی ایک نوٹ پڑا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ مذہبی پولیس کی آنکھوں میں سگریٹ پینا گناہ ہے۔

داعش نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔

اسی بارے میں