ایئرایشیا کے جہاز کے ’بلیک باکس‘ کا سگنل موصول

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا

انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے تباہ ہونے والے ایئرایشیا کے جہاز کے ملبے کو تلاش کرنے والے ریسکیو حکام کے مطابق انھیں بحیرۂ جاوا میں ایک سگنل موصول ہوا ہے جس کا تعلق ممکنہ طور پر جہاز کے بلیک باکس سے ہو سکتا ہے۔

اب تک ریسکیو ٹیموں نے سمندر سے 46 لاشیں نکال لی ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ بیشتر مسافروں کی لاشیں فیوزیلاژ (جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں) میں ہیں، تاہم ابھی تک فیوزیلاژ نہیں مل پایا۔

انڈونیشیا کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل موایلڈو کو نے بی بی سی کو بتایا کہ غوطہ خوروں کی مدد سے سگنل کے مقام کی تلاش جاری ہے۔

حکام کے مطابق سگنل اس مقام کے نزدیک سے موصول ہوا ہے جہاں سے جہاز کی دم ملی تھی جس کی وجہ سے یہ امکان ہے کہ بلیک باکس طیارے کے مرکزی حصے سے الگ ہو دوسری جگہ پر گر گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طیارے کے حادثے میں کوئی مسافر زندہ نہیں بچ سکا ہے

انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے ایک اہلکار کے مطابق انھیں ’جہاز کا ملبہ تلاش کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے سگنل کے موصول ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور ہمارے خیال میں یہ جہاز کا بلیک باکس ہی ہے اور غوطہ خوروں کو اس کی تصدیق کرنا ہے۔ بدقسمتی سے بلیک باکس طیارے کے دم سے الگ ہو گیا تھا اور اب غوطہ خوروں کو اس کی اصل جگہ کی نشاندہی کرنی ہے۔‘

بلیک باکس کی مدد سے تفتیش کاروں کو جہاز کے تباہ ہونے کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔

اس وقت جہاز کے ملبے اور لاشوں کی تلاش میں مختلف ملکوں کے 30 جہاز حصہ لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ چھ ہوائی جہاز اور 14 ہیلی کاپٹر بھی ان کارروائیوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں