نیند کی پراسرار بیماری سے لوگ نقل مکانی پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی تک ڈاکٹرز اس بیماری کی تشخیص نہیں پائے ہیں

وسطی ایشیا کے ملک قزاقستان کے ایک گاؤں کے رہائشیوں کو نیند کی ایک عجیب اور پراسرار بیماری کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

قزاقستان کے شمال میں واقع گاؤں کلاچی کے رہائشیوں کو گذشتہ دو سال سے نیند کی ایک ایسی بیماری کا سامنا ہے جس کی وجوہات کے بارے میں ڈاکٹروں کو تاحال کوئی اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔

اس بیماری میں لوگ اچانک سو جاتے ہیں اور پھر کئی کئی دن تک نہیں جاگتے۔

بیماری کا شکار افراد یادداشت میں کمی کی شکایت بھی کرتے ہیں جبکہ بعض کیسوں میں ہذیان کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

گاؤں میں ایک سو کے قریب ایسے کیس سامنے آ چکے ہیں اور اس بیماری کو’Sleepy Hollow‘ یا کثرتِ خواب کا نام دیا گیا ہے اور اس میں بعض افراد ایک سے زائد بار متاثر ہوئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق اب ہمسایہ اضلاع کے حکام نے اس گاؤں کے رہائشیوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ ان کے علاقے میں آ کر آباد ہو سکتے ہیں اور ملازمتیں کر سکتے ہیں۔

انٹرفیکس کے مطابق ضلع ایفیلے کے سربراہ ساؤلے اگیمباییوا نے کہا ہے کہ دوسری جگہ بسانے میں ترجیح ایسے خاندانوں کو دی جائے گی جن میں بچے اور عورتیں شامل ہوں۔

اطلاعات کے مطابق 582 افراد، جو گاؤں کی آبادی کا نصف بنتے ہیں، ان کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس بیماری سے بچے اور بڑے دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

اگور سیموسینکی کا بیٹا اس بیماری سے متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے رشیا ٹو ڈے کو بتایا کہ ’اگر آپ اس کو اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آنکھیں کھولنا چاہتا ہے لیکن ایسا کر نہیں پاتا۔‘

ابھی تک ڈاکٹر اس بیماری کی تشخیص نہیں کر پائے ہیں جبکہ بعض نے اسے بڑے پیمانے پر ذہنی عارضہ قرار دیا ہے۔

بعض دوسرے لوگوں کے خیال میں چونکہ گاؤں یورینیئم کی سابقہ کان کے نزدیک واقع ہے اور اس وجہ سے یہ بیماری لاحق ہو رہی ہے۔

اس کان کو دو سال پہلے بند کر دیا گیا تھا تاہم اس واقعے کے بعد گاؤں کی مٹی اور پانی کے نمونوں کی جانچ کی گئی لیکن ان میں کسی قسم کی تابکاری یا کوئی اور مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں