فرانس: مشتبہ حملہ آور مارے گئے، ساتھیوں کی تلاش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے پیرس کے شمال مشرق علاقے ڈامارٹن آں گوئل میں میگزین چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے دو مبینہ حملہ آوروں کو کارروائی کر کے ہلاک اور کوشر سپر مارکیٹ کو یرغمال بنانے والے ایک شخص کو بھی ہلاک کر دیا

فرانس میں پولیس ان مشتبہ افراد کے ساتھیوں کی تلاش کر رہی ہے جنھوں نے دو روز کی شدت پسند کارروائیوں میں پیرس میں 17 افراد ہلاک کیے۔

پولیس کے مطابق وہ ایئٹ بومیڈیئن کی تلاش کر رہے ہیں جو ایمدی کولیبلی کے ہمراہ تھیں۔ ایمدی نے جمعہ کو پیرس کے مشرقی علاقے میں یہودیوں کی مارکیٹ میں حملہ کیا تھا اور چار یرغمالیوں کو ہلاک کیا تھا۔

پولیس نے جب سپر مارکیٹ میں دھاوا بولا تو ایمدی اس میں ہلاک ہوا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ایئٹ ایمدی کے اس وقت بھی ہمراہ تھی جب ایمدی نے خاتون پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایئٹ مسلح ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو پولیس نے پیرس کے شمال مشرق علاقے ڈامارٹن آں گوئل میں میگزین چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے دو مبینہ حملہ آوروں کو کارروائی کر کے ہلاک اور کوشر سپر مارکیٹ کو یرغمال بنانے والے ایک شخص کو بھی ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے پیرس اور اس کے شمال میں دو مقامات پر دھاوا بول کر ان دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے عمارت میں موجود لوگوں کو مغوی بنا لیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پولیس کی جانب سے کوشر سپر مارکیٹ میں کی جانے والی کارروائی میں چار یرغمالی شدید زخمی ہو گئے۔

اے پی کے مطابق اس کارروائی میں 15 یرغمالیوں کو رہا کروا لیا گیا جبکہ دو پولیس اہل کار بھی زخمی ہوئے۔

دریں اثنا فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے خبردار کیا ہے کہ فرانس پر شدت پسندی کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

جمعے کی رات ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی۔

فرانسو اولاند نے اپنے ٹی وی خطاب میں تین مسلح افراد کو قاتل قرار دیتے ہوئے کوشر سپر مارکیٹ پر کیے جانے والے حملے کی بھی مذمت کی۔

اسی بارے میں