پیرس کےگرد پانچ سو اضافی فوجی تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرا نس نے گزشتہ تین روز میں تشدد کے واقعات میں سترہ لوگوں کی ہلاکت کے بعد فرانس نے درالحکومت پیرس کےگرد پانچ مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانس کے وزیر داخلہ بیرنار کازنو نے کہا ہے کہ ملک کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس ان مشتبہ افراد کے ساتھیوں کی تلاش کر رہی ہے جنھوں نے دو روز کی شدت پسند کارروائیوں میں پیرس میں 17 افراد ہلاک کیے۔

پولیس کے مطابق وہ ایئٹ بومیڈیئن کی تلاش کر رہے ہیں جو ایمدی کولیبلی کے ہمراہ تھیں۔ ایمدی نے جمعہ کو پیرس کے مشرقی علاقے میں یہودیوں کی مارکیٹ میں حملہ کیا تھا اور چار یرغمالیوں کو ہلاک کیا تھا۔

ادھر سنیچر کے روز دسویں ہزار لوگوں نے تشدد میں مرنے والے لوگوں کو یاد میں مارچ میں حصہ لیا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلہ نہیں ہے۔ ’ہمیں چوکنا رہا ہے۔ اور میں آپ کو کہتا ہوں کہ متحد رہیں۔ یہ ہی ہمارا سب سے بہترین ہتھیار ہے۔‘

سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد فرانس کے وزیر داخلہ نے کہا کہ فرانس اگلے کئی ہفتوں تک ہائی الرٹ پر رہے گا۔ انھوں نے کہا اتوار کے روز پیرس میں یونٹی مارچ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔

اتوار کے روز فرانس میں یونٹی مارچ ہوگا جس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، جرمن چانسلر اینگلا مرکل ، ترکی کے وزیراعظم احمد دواؤ اوغلو، سپین کے صدر مریانو راجوائے اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاورف شریک ہوں گے۔

ایئٹ بومیڈیئن کی تلاش

پولیس حکام کے مطابق ایئٹ ایمدی کے اس وقت بھی ہمراہ تھی جب ایمدی نے خاتون پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایئٹ مسلح ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو پولیس نے پیرس کے شمال مشرق علاقے ڈامارٹن آں گوئل میں میگزین چارلی ایبڈو پر حملہ کرنے والے دو مبینہ حملہ آوروں کو کارروائی کر کے ہلاک اور کوشر سپر مارکیٹ کو یرغمال بنانے والے ایک شخص کو بھی ہلاک کر دیا۔

پولیس نے پیرس اور اس کے شمال میں دو مقامات پر دھاوا بول کر ان دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے عمارت میں موجود لوگوں کو مغوی بنا لیا تھا۔

اسی بارے میں