’ابوبکر البغدادی کا ریٹ بھی 1 کروڑ ڈالر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ نے ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی ہے

نیا سال آپ سب کو مبارک ہو۔ واشنگٹن میں اس نئے سال میں ایک نئی نویلی ریپبلكنز اکثریت والی کانگریس نے کیپٹل ہل کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ کالج کے فرسٹ ایئر کے سٹوڈنٹس کی طرح کانگریس میں پہلی بار منتخب ہوکر آنے والے اراکین آنکھیں پھاڑے کبھی باتھ روم تو کبھی کینٹین تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن ان چھوٹی چھوٹی مشکلات کے باوجود جوش میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ان فریشرز یا جنہیں ہم کالج کے زمانے میں فچّہ کہتے تھے، ان کی کمان کانگریس کے بڑے رہنما مچ میكانل کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن وہ بھی پہلی بار سینیٹ میں اکثریت کے لیڈر بنے ہیں۔ کلاس کے نئے نئے مانیٹر کی طرح آتے ہی انہوں نے اثر و رسوخ جمانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

حلف اٹھائے ہوئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے کہ مانیٹر صاحب نے اعلان کر دیا کہ ریپبلكنز کے آتے ہی امریکی معیشت میں ترقی کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ دراصل اسی دن گزشتہ برس کی سہ ماہی کے کچھ اعداد و شمار سامنے آئے تھے اور میكانل صاحب نے موقع پاتے ہی چوکا لگا دیا۔ بیچارے اوباما اندر ہی اندر کیسے پیچ و تاب کھارہے ہوں گے اس کا اندازہ آپ لگا ہی سکتے ہیں۔

ویسے بھی نئی نویلی کانگریس نئے سال میں ان کی راہ میں روڑے اٹكانے کے نئے نئے طریقے تلاش کرے گی کیونکہ اگلی منزل تو اب 2016 کے صدارتي انتخابات ہیں۔

نئے سال میں آپ نے بھی اب تک اپنے گھروں میں مٹھائی والے، پرچون والے یا پھر ہمدرد دواخانے کا اشتہار والا کیلنڈر کسی نہ کسی کونے میں ٹانگ دیا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مچ میکانل امریکی سینٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما ہیں

واشنگٹن میں بھی نیا کیلینڈر آ گیا ہے جو گزشتہ گیارہ برسوں سے ’نیشنل كاؤنٹر ٹیرارزم سینٹر‘ یعنی انسدادِ دہشت گردی کے قومی سینٹر کی جانب سے جاری ہوتا ہے۔ ان کی ویب سائٹ یا ہمارے دفتر میں ابھی تک اس کی کاپی نہیں آئی ہے۔ لیکن میڈیا کی بعض نامي گرامي شخصیات تک پہنچ گئی ہے۔

ان سے پتہ چلا ہے کہ صفحۂ اوّل پر اس بار بھی القاعدہ کے سربرا ایمن الظواہری ہی موجود ہیں اور ان پر انعام بھی پچیس ملین ڈالر ہی ہے۔

لیکن اس کیلینڈر میں پہلی بار اپنا اکاؤنٹ کھولا ہے ’دولتِ اسلامیہ‘ کے رہنما ابو بکر البغدادی نے۔ مبارک ہو بغدادی صاحب۔

لیکن ان پر انعام بس دس ملین ڈالر کا ہی ہے۔ اب انہوں نے اتنے لوگوں کا قتل کروایا ہے، کسی کو جنت بھیجا ہے تو کسی کو جہنم اور صرف دس ملین ڈالر؟ یہ ریٹ تو حافظ سعید جیسوں کا ہے جو کھلے عام نظر آتے ہیں اور پھر بھی امریکہ کہتا ہے کہ پكڑوانے والے کو دس ملین ڈالر ملیں گے۔

آج کل ہر جگہ کفایت شعاری یا کٹوتی کا ماحول ہے تو لگتا ہے کہ بغدادی بھی اسي كي زد میں آ گئے ہیں۔ ظواہری کا ریٹ پہلے سے چلا آ رہا ہے تو وہ کٹوتی سے بچ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ IMRAN KHAN OFFICIAL
Image caption مران خان صاحب کا پتہ کرنا ہوگا کہ ان دنوں بھی کنٹینر پر ہی رات گزارتے ہیں یا شام کو گھر واپس لوٹنے لگے ہیں

ویسے کیلنڈر ہے کام کی چیز، دنیا بھر کے شدت پسندوں کی جنم پتري کے ساتھ ساتھ کہاں کہاں بم دھماکے ہوئے، آج کل کس طرح کے بم فیشن میں ہیں یہ ساری تفصیل اس میں شائع ہوئی ہے۔ اور قیمت صرف بیس ڈالر ہے۔ کچھ دن میں بازار میں آ جائےگا تو خرید لیجیےگا۔

باقی تو نئے برس میں سب کچھ فی الحال پہلے جیسا ہی نظر آ رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان اسی جوش سے ایک دوسرے پر گولیاں اور گالیاں برسا رہے ہیں، امریکہ پہلے جیسی ہی معصومیت کے ساتھ دنیا کو صحیح راستہ دکھانے میں لگا ہوا ہے، بھارتی ٹیم غیر ملکی پچوں پر ہمیشہ کی طرح میچ گنوا رہی ہے، کم كارڈاشيان انٹرنیٹ توڑنے کے بعد اب کچھ اور توڑنے کا سوچ رہی ہیں، عمران خان صاحب کا پتہ کرنا ہوگا کہ ان دنوں بھی کنٹینر پر ہی رات گزارتے ہیں یا شام کو گھر واپس لوٹنے لگے ہیں کیونکہ اب تو نئی نویلی دلہن پوچھنے کو موجود ہیں کہ چن کتھاں گزاری ای رات وے؟

اسی بارے میں