ایئر ایشیا کے طیارے کے بلیک باکس کا پتا لگا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایئر ایشیا کا جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جا تے ہوے خراب موسم میں لاپتا ہوگیا تھا۔

ایئر ایشیا کے جہاز کے ملبے کی تلاش کرنے والے سرچ اور ریسکیو مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے غوطہ خوروں نے شاہد ایئر ایشیا کی پرواز QZ8501 کے بلیک باکس کا پتا لگا لیا ہے۔

بامبانگ سولیسٹویو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ فلائیٹ ریکارڈر مل گئے ہیں اور غوطہ خور پیر کے روز ان کو سمندر سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریکاڈر سمندر کی تہہ میں طیارے کے ملبے کے نیچے دفن ہیں۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز جس پر 162 افراد سوار تھے، 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جا تے ہوئے خراب موسم میں لاپتا ہوگیا تھا۔

سمندری امور کے وزیر اینڈرویونو سوئیسیلو کے مطابق تین انڈونیشیائی بحری جہازوں کو دو مختلف مقامات سے بلیک باکس کے سگنل موصول ہوئے تھے۔

اینڈرویونو سوئیسیلو نے کہا ہے کہ ’امید ہے یہ سگنل کاک پٹ وائس ریکارڈر اور پرواز کے ڈیٹا ریکارڈر کے ہیں۔‘

ایئر ایشیا کے چیف ایگزیکٹو ٹونی فرنینڈس نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ ’مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ریکارڈرز کا پتہ چلا لیا گیا ہے، لیکن میری پہلی ترجیح جہاز کے مرکزی حصے سے لاشوں کو نکالنا ہے۔‘

اس سے قبل فرنینڈس نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’امید ہے آج اہم پیش رفت ہوگی اور ہم جہاز کے مرکزی حصے کو تلاش کر لیں گے۔‘

اس سے پہلے سرکاری حکام نے کہا تھا کہ جاوا سمندر میں ’سکیننگ‘ کے دوران جہاز کے جسم سے مشابہت رکھنے والی ایک بڑی چیز ملی ہے۔

انڈونیشیا کے تلاش اور بچاؤ کے محکمے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جہاز کے مرکزی حصے کے ملنے کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اگر مرکزی حصہ ملتا ہے تو ہماری پہلی ترجیح مسافروں کی لاشیں نکالنا ہوگا۔

خیال رہے کہ سمندر سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک امدادی کارکن 48 لاشیں نکال چکیں ہیں۔

جہاز کے گرنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی مگر پائلٹ نے خراب موسم کے باعث پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

پرواز کے ڈیٹا ریکارڈرز عام طور پر ہوائی جہاز کے پیچھلے حصہ کے اندر رکھے جاتے ہیں اور ان کو اس طریقے سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ حادثے کی صورت میں بھی محفوظ رہیں۔

ان کو ڈھونڈنا حکام کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے کیونکہ ڈیٹا ریکارڈرز کی مدد سے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے میں مدد مل سکے گی۔

اسی بارے میں