ڈریسڈن: ہزاروں افراد کی اسلام مخالف تنظیم کے خلاف ریلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منتظمین کا کہنا ہے کہ پیگیڈا کے خلاف اگلی ریلی پیر کے روز نکالی جائے گی

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں منتظمین کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد نے اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ کے خلاف ریلی نکالی ہے۔

منتظمین کے مطابق پچھلے ہفتے کی ریلی کے مقابلے میں اس ریلی میں دو گنا افراد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ جرمنی میں اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ ’مغرب کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف ریلیاں منعقد کر رہی ہے۔

ڈریسڈن میں پیگیڈا کے خلاف ریلی کے شرکا نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رسالے پر حملے اور تین روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والے 17 افراد کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ پیگیڈا کے خلاف اگلی ریلی پیر کے روز نکالی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فرانس کے واقعے کے بعد اس ریلی کے شرکا میں اضافہ ہو گا۔

ہفتے کو ہونے والی ریلی کو سیکسنی اور ڈریسڈن کی حکومتوں نے منعقد کرایا تھا۔

یاد رہے کہ پیگیڈا کے خلاف ریلیوں کا سلسلہ جرمن اخبار ’بلڈ‘ کی طرف سے شروع کی گیا۔ اس مہم کی حمایت سابق چانسلر ہلمٹ، اداکارہ کیروکائن ہرفرت اور ریٹائرڈ فٹ بالر اولیور بئیر ہوف کے علاوہ 80 کے قریب مشہور شخصیات نے کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق چانسلر ہلمٹ، اداکارہ کیروکائن ہرفرت اور فٹ بالر اولیور بئیر ہوف کے علاوہ اسی کے قریب مشہور شخصیات نے ’پیگیڈا‘ مخالف کمپین کو جوائن کیا ہے

اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ (پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) اکتوبر سے ہر ہفتے ریلی نکالتی ہے۔

جرمن اخبار ’بلڈ‘ کے مطابق جن شخصیات نے ’پیگیڈا‘ کے خلاف ان کی مہم میں شمولیت اختیار کی ہے، وہ ان کو انتہا پسندی اور نفرت کو مکمل طور پر مسترد کرنے، برداشت اور بھائی چارے کی مہم میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

اسلام مخالف یورپی تنظیم ’پیگیڈا‘ (پیٹریاٹک یورپیئنز اگینسٹ اسلامائزیشن) کا دعویٰ ہے کہ جرمنی پر ایک لحاظ سے مسلمانوں اور دیگر تارکینِ وطن سے قبضہ کر لیا ہے۔

’پیگیڈا‘ نے اس قسم کے جلسے جلوسوں کا آغاز رواں برس اکتوبر سے کیا تھا اور ڈریسڈن کی ریلی اس سلسلے کی دسویں اور اب تک کی سب سے بڑی ریلی تھی۔

خیال رہے کہ جرمنی میں اس سال پناہ گزینوں کی تعداد میں دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ شامی پناہ گزینوں کی جرمنی آمد کو قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 2014 میں دو لاکھ افراد نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دیں جبکہ 2013 میں یہ تعداد ایک لاکھ 27 ہزار تھی۔

اسی بارے میں