’تلوار سے زیادہ طاقتور قلم‘ کہاوت کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption چارلی ایبڈو کے صحافیوں سے اظہار عقیدت کے لیے پنسل کے استعمال نے ایک پرانی کہاوت کی ترجمانی کی ہے

فرانس کے شہر پیرس میں چارلی ایبڈو کے صحافیوں کی ہلاکت کے بعد سے کارٹون کے ذریعے ان کے ساتھ اظہار عقیدت کا سلسلہ جاری ہے جس میں ’پنسل بمقابلہ بندوق‘ اور ’رائٹرز بمقابلہ فائٹرز‘ کی عکاسی جاری ہے۔

اسی سلسلے میں یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ بہت سی جگہوں پر مظاہرین قلم اور پنسل ہوا میں لہرا رہے ہیں۔ بہت سے کارٹون میں یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘۔

لیکن یہ خیال آیا کہاں سے؟

انگریزی میں کہاوت ’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘ کو پہلی بار ناول نگار اور ڈرامہ نگار ایڈورڈ بل ور لیتوں نے سنہ 1839 میں اپنے تاریخی ڈرامے ’کارڈینل ریچیلیو‘ میں استعمال کیا تھا۔

کنگ لوئی ہشتم کے وزیر اعظم ریچیلیو کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کی جان لینے کے لیے سازش کی جا رہی ہے لیکن چونکہ وہ ایک مذہبی پیشوا ہے اس لیے وہ تلوار نہیں اٹھا سکتا۔

اس کا نوکر فرانسوا کہتا ہے: ’لیکن اب میرے آقا، آپ کے حکم کے طابع دوسرے ہتھیار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان خیالات کا اظہار تقریبا دنیا کے تمام ادب اور زبانوں میں ملتا ہے

ریچیلیو متفق ہوتے ہوئے کہتا ہے: ’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے ۔۔۔ لے جاؤ یہ تلوار۔ حکومتوں کی اس کے بغیر بھی حفاظت ہو سکتی ہے۔‘

آکسفرڈ کوٹیشن ڈکشنری کی نائب ایڈیٹر سوزین ریٹکلف کہتی ہیں کہ اس کہاوت نے بہت جلد مقبولیت حاصل کرلی اور سنہ 1840 کی دہائی تک یہ زبان زد خواص و عام تھا۔

آج اس کا بہت سی زبانوں میں استعمال ہو رہا ہے اور زیادہ تر انگریزی سے ترجمہ ہیں۔

کیمبرج ڈکشنری ویب سائٹ کے مطابق اس کہاوت میں اس بات پر زور ہے کہ ’فکر و تحریر کا لوگوں پر تشدد اور طاقت کے استعمال سے زیادہ اثر ہوتا ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption قلم اور تلوار کا موازنہ زمانۂ قدیم سے جاری ہے

لیکن لیٹن اس طرح کے خیالات کا اظہار کرنے والے پہلے نہیں ہیں۔ ریٹکلف نے اس سے قبل کی دو کتابوں کا ذکر کیا جہاں اس قسم کے خیالات کا اظہار ملتا ہے۔

رابرٹ برٹن نے 17ویں صدی میں ’ایناٹومی آف میلنکلی‘ میں لکھا ہے کڑوا مذاق اور طنز زیادہ مہلک ہو سکتا ہے ۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’لفظ کی مار تلوار کے وار سے زیادہ گہرا زخم کرتی ہے‘۔ یہ پرانی کہاوت آج بھی رواج میں ہے۔

اسی قسم کی ایک کہاوت جارج وھیٹ سٹون کی ’Heptameron of Civil Discourses‘ میں ہے جو کہ سنہ 1582 میں شائع ہوئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ ’قلم کا حملہ نیزے کے جوابی حملے سے زیادہ خطرناک ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption اردو شاعری میں اس کے متعلق بہت سے اشعار ملتے ہیں

اس سے بھی قبل سنہ 406 قبل مسیح میں وفات پانے والے یونانی شاعر یوریپائڈس نے اپنی تصنیف میں کہیں لکھا تھا کہ ’زبان تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘۔

لیکن آکسفرڈ یونیورسٹی میں قدیم ادبیات کے پروفیسر آرمند کو اس بارے میں شک ہے۔ ’یوریپائڈ کے نزدیک عمل کے مقابلے زبان کا استعمال منفی تھا۔‘

رومن شاعر ورجل نے بھی تقریر کی قوت کا قنوطی اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ایکلوگ-9 میں لکھا ہے کا ’جنگی ہتھیاروں کے سامنے میرے نغمے ایسے ہی ہیں جیسے کہ عقاب کے سامنے فاختہ۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption الفاظ کی قوت کو نہ صرف ادیبوں نے بلکہ بڑے فاتحوں نے بھی قبول کیا ہے

آرمنڈ کا کہنا ہے کہ عہد قدیم میں اس بات کا یقین تھا کہ لکھے ہوئے الفاظ میں باقی رہنے کی قوت ہوتی ہے اور ’وہ خونی معرکوں میں بھی بچے رہ سکتے ہیں اگر چہ وہ قلیل مدت میں ہتھیار کے خلاف فتحیاب نہ ہوں۔‘

عظیم جنگجو نیپولیئن کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے لفظ اور ہتھیار کا مقابلہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ ’ہزاروں سنگینوں کے مقابلے چار مخالف اخباروں سے ڈرنا چاہیے‘۔

بہر حال اس پر بھی شک ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ الفاظ من و عن ان کے منھ سے کبھی نکلے بھی تھے یا نہیں۔

مغربی یورپی تاریخ کے آکسفرڈ یونیورسٹی میں پروفیسر مائیکل بروئرز کا کہنا ہے کہ تاہم اس کے مفہوم نیپولیئن کے خیالات کے مظہر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption نیپولین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پریس سے خوفزدہ تھے

انھوں نے کہا: ’وہ پریس کی قدر کرتے تھے اور اس سے خوفزدہ بھی تھے۔ انھیں تمام عمر ادب اور پریس کی قوت کا احساس رہا۔‘

جب نیپولین اقتدار میں آئے اس وقت فرانس میں کئی درجن اخبار تھے اور انھوں نے زیادہ تر پر قدغن لگائے جبکہ بعض پر پابندی عائد کر دی۔

بروئر کا خیال ہے کہ نیپولین قلم کو اپنے ہاتھ میں ہتھیار کے طور پر دیکھتے تھے اور ’وہ یہ جانتے تھے کہ وہ ان مخالفین کو اس کا نشانہ بنائيں جنھوں نے انھیں شکست دی تھی اور انھوں نے ایسا کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سی حکومتیں پریس پر آج بھی قد غن لگاتی رہتی ہیں

چارلی ایبڈو کے سٹاف کے قتل پر بنائے جانے والے کارٹون میں بہت سے پیغامات ہیں جیسے۔ پنسل بالآخر بندوق برداروں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گی، یا ایک پنسل جب ٹوٹتی ہے تو دو ہو جاتی ہے یا یہ کہ ہر بندوق کے مخالف کئی قلم ہوگ، اور پنسل کو ہوا لہرانے والے مظاہرین اسی قسم کے جذبات کی ترجمانی گیتوں میں کر رہے تھے۔

اسی بارے میں