یوکرین کے سابق صدر یانوکووچ انٹرپول کو مطلوب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یانوکووچ کو کیف میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد معزول کیا گیا تھا۔

پولیس کی بین الاقوامی تنظیم انٹرپول نے یوکرین کے معزول صدر وکٹر یانوکووچ کے روس فرار ہونے کے ایک سال بعد ان کا نام مطلوب افراد کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔

ان پر سرکاری فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد کے الزامات ہیں۔

یانوکووچ کو کیئف میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد معزول کیا گیا تھا۔

سابق صدر کی معزولی کے بعد روس نے یوکرین علاقے کرائمیا پر قبضہ کرلیا تھا اور مشرقی یوکرین کے مختلف حصوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

روس نے یوکرین کے مشرقی علاقوں دونیتسک اور لوہانسک جہاں کئی بار جنگ بندی کی خلاف وزی ہو چکی ہے میں تشدد کو اکسانے کی تردید کی ہے۔

پیر کے روز یوکرین کےفوجی حکام کا کہنا تھا کہ فوج پر باغیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

قزاقستان میں رہنماؤں کے ممکنہ سربراہی اجلاس کے انعقاد کی کوشش کے سلسلے میں جرمنی کے وزیر خارجہ روس، یوکرائن اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

جرمنی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ اجلاس اسی صورت میں منعقد کیا جائے گا اگر فریقین کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدام اٹھانے کی امید ہوگی۔

سابق صدر یانوکووچ کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس پیر کو انٹرپول کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔

خیال رہے کہ ریڈ نوٹس کے اجرا کے بعد یہ انٹرپول کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مطلوبہ شخص کو گرفتار کر نے کے لیے مقامی پولیس کی مدد کرے اور جس ملک میں وہ مطلوب ہے اسے اس ملک کے حوالے کیا جائے۔

کیئف میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ سٹرن کے مطابق 64 سالہ یانوکووچ کو آخری بار ماسکو میں امریکی فلم ڈائریکٹر اولیور سٹون کے ساتھ ایک تصویر میں دیکھا گیا تھا۔

یوکرین کے وزیر داخلہ ’آرسن ایواکو‘ نے کہا ہے کہ ’انٹرپول نے نوٹس ہماری حکومت کی کئی ماہ کی کوششوں کے بعد جاری کیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم ’میکولا ازرو‘ اور سابق صدر یانوکووچ کے صاحبزادے سمیت کئی دیگر شخصیات کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں، لیکن اٹرپول کی ویب سائٹ سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یوکرین کی نئی حکومت سابق صدر پر مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دینے کا الزام لگاتی ہے لیکن یانوکووچ اس الزام کو غلط قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں