ایئر ایشیا کا کاکپٹ وائس ریکارڈر مل گیا ہے: حکام

پیر کو ایئر ایشیا طیارے کا بلیک باکس جاوا سمندر کی تہہ میں ملا تھا جسے انڈونیشیا کے دارالحکومت پہنچا دیا گيا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

پیر کو ایئر ایشیا طیارے کا بلیک باکس جاوا سمندر کی تہہ میں ملا تھا جسے انڈونیشیا کے دارالحکومت پہنچا دیا گيا ہے

انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں نے جاوا سمندر سے حادثے کا شکار ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کا کاک پٹ وائس ریکارڈر حاصل کر لیا ہے۔

پیر کو ایئر ایشیا کی پرواز کا بلیک باکس کے ملنے کے ایک دن بعد منگل کو یہ کاک پٹ وائس ریکارڈر ملا ہے۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز جس پر 162 افراد سوار تھے، گذشتہ ماہ 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم میں گر گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے سمندر سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 48 لاشیں نکالی جا چکی ہیں تاہم بہت سی لاشیں ابھی ملبے میں ہی پھنسی ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے ملنے کے بعد ان دونوں کی مدد سے تفتیش کرنے والوں کو حادثے کا شکار طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیل مل سکے گی۔

ایئر ایشیا کی پرواز تلاش کرنے والی ٹیم نے پیر کو بتایا کہ انھوں نے سمندر کی تہہ میں طیارے کے ملبے کے نیچے ایسی چیز دیکھی ہے جو کہ وائس ریکارڈر ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ دنوں ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار طیارے کا عقبی حصہ پانی سے باہر نکالا گیا تھا لیکن بلیک باکس اس میں نہیں تھا

سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراوں نے فوری طور پر وائس ریکارڈر کے ملنے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم بعد میں اس کے باضابطہ اعلان کا امکان ہے۔

اس طیارے کی تلاش میں شامل ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ’اس آلے کو حاصل کر لیا گیا ہے اور اب یہ جاوا سمندر میں موجود انڈونیشیا کی بندا ایسیہ جنگی جہاز پر موجود ہے۔‘

بی بی سی کی کرشما واسوانی کا کہنا ہے کہ وائس ریکارڈر جس میں پائلٹوں کی تمام باتیں ریکارڈ ہوتی رہتی ہیں اسے دارالحکومت جکارتا لایا جا رہا ہے جہاں ماہرین اس کی جانچ کریں گے۔

فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر میں طیارے کی رفتار، اس کی بلندی اور دیگر تکنیکی معلومات ریکارڈ ہوتی ہیں جو پہلے ہی دارالحکومت میں موجود ہیں۔

گذشتہ دنوں ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار طیارے کا عقبی حصہ پانی سے باہر نکالا گیا تھا تاہم اس میں بلیک باکس موجود نہیں تھا۔

جہاز کے گرنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی مگر پائلٹ نے خراب موسم کے باعث پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔