یوکرین: بس پر حملہ، دس عام شہری ہلاک

یوکرین تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یوکرین میں نو ماہ سے جاری لڑائی میں اب تک 4,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یوکرین ملٹری کے مطابق مشرقی یوکرین میں ایک مسافر بس کو شیل لگنے سے کم از کم دس افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ حادثہ باغیوں کے گڑھ دونیتسک سے 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں بحاس میں ایک حکومتی چیک پوائنٹ کے نزدیک پیش آیا۔

دونیتسک کے علاقائی اہلکار اس کا ذمہ دار روس نواز باغیوں کو ٹھہرا رہے ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق باغی رہنماؤں نے اس سے انکار کیا ہے۔

ستمبر میں جنگ بندی کے باوجود حالیہ دنوں میں لڑائی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بس میں عام شہری سوار تھے جو ساحلی شہر ماریوپول سے آ رہے تھے۔

دونیتسک کی علاقائی وزارتِ داخلہ کے سربراہ ویاچیسلاو ابروسکن کے مطابق شاید حملے کا ٹارگٹ قریبی شہر ولنوواخا کے باہر بنایا ہوا چیک پوائنٹ تھا لیکن مارنے والے کا نشانہ خطا ہو گیا۔

’یہ انٹر سٹی بس پر ایک براِہ راست حملہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ تفتیش ہو رہی ہے اور دونیتسک اورماریوپول کے درمیان سڑک کو بند کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق بس کو ایک شیل لگا تھا لیکن بعد میں فوج کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ گراڈ راکٹ ہو۔

روس کی خبر رساں ایجنسی نے باغی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے حملہ نہیں کیا۔

نامہ نگاروں کے مطابق جب بھی میزائل اور آرٹلری حملوں میں عام شہری ہلاک ہوتے ہیں تو حکومتی فورسز اور باغی ایک دوسرے پر ان حملوں کا الزام لگاتے ہیں۔

حالیہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب اس ہفتے ہونے والے امن مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے دسمبر میں کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ 15 جنوری کو کازکستان کے دارالحکومت آستانا میں جرمن اور فرانسیسی رہنماؤں کے ہمراہ روس کے صدر ولاد میر پوتن سے ملیں۔ لیکن پیر کو برلن میں مذاکرات کے بعد چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے کہا تھا کہ اجلاس سے پہلے مزید بات چیت ضروری ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ مذاکرات میں تاخیر کی وجہ مکمل جنگ بندی کے نفاذ میں ناکامی اور امداد اور قیدیوں کی رہائی کے طریقۂ کار کا طے نہ پانا ہے۔

یوکرین میں نو ماہ پہلے شروع ہونے والی لڑائی میں ابھی تک 4,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں