وائٹ ہاوس: پیرس ریلی میں عدم شرکت غلطی تھی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جان کیری روانی کے ساتھ فرنچ زبان بولتے ہیں اور اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک 17 دفعہ فرانس کا دورہ کرچکے ہیں۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ اتوار کو پیرس میں اظہارِ یکجہتی کے لیے نکالی جانے والی ریلی میں کسی اعلٰی حکومتی شخصیت کو بھیجاجانا چاہیے تھا۔

حکومت کا یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری کے ریلی میں شریک نہ ہونے پر تنقید کے بعد آیا ہے۔

خیال رہے کہ پیرس میں نکالی جانے والی اس ریلی میں 40 سربراہانِ مملکت سمیت تقریباً 16 لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔ اس ریلی میں امریکی حکومت کی نمائندگی فرانس میں تعینات امریکی سفیر نے کی تھی۔

پیر کے روز ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کی خواہش تھی کہ وہ ریلی میں شریک ہوں مگر صدارتی دورے کی سیکورٹی کے لیے 36 گھنٹے کا پیشگی نوٹس چاہیے ہوتا ہے۔

جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ درست ہے کہ ہمیں کسی اہم حکومتی شخصیت کو بھیجنا چاہیے تھا۔‘

امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے بھارت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانس امریکہ کا پرانا اتحادی ہے اور وہ یکجہتی کے اظہار کے لیے جلد ہی فرانس جائیں گے۔

جان کیری روانی کے ساتھ فرنچ زبان بولتے ہیں اور اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک 17 مرتبہ فرانس کا دورہ کرچکے ہیں۔

امریکی وزیرِخارجہ کا جو بھارت اور پاکستان کے دورے پر تھے مزید کہنا تھا کہ ’ میں ذاتی طور پر وہاں جانا چاہتا تھا مگر دوسری مصروفیات کی وجہ سے پہلے نہیں جا سکا۔‘

جان کیری کا کہنا تھا کہ حملوں کے فوراً بعد سے امریکی انتظامیہ صدر اوباما سمیت فرانس کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے اور ہم نے انھیں انٹیلیجنس کی مدد کی پیشکش کی بھی کی ہے۔

کیری کا مزید کہنا تھا کہ ’فرانس سے ہمارا رشتہ ایک دن کا نہیں ہے، بلکہ آزادی اظہار رائے جیسی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر ہمارے خاص اور دیرینہ تعلقات ہیں۔‘

جان کیری کی اس ہفتے پیرس پہنچنے کی توقع ہے۔

دریں اثنا وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ پر تشدد انتہا پسندی کے انسداد کے لیے اس سال فروری میں واشنگٹن میں ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس ہوگا۔

اسی بارے میں