بیلجیئم:’انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی میں دو ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بلوہ پولیس نے جائے واردات کی ناکہ بندی کر دی

بیلجیئم میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی میں دو افراد مارے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ویئرویے نامی قصبے میں جمعرات کی شب ہونے والی کارروائی کے دوران ایک شخص کو زخمی حالت میں گرفتار بھی کیا گیا ہے، جب کہ پولیس یا عوام کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس کارروائی کے بعد مقامی میجسٹریٹ ایرک فان ڈر سپٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پولیس نے شام سے واپس آنے والے ایک گروہ کو نشانہ بنایا ہے جو ’بڑے پیمانے‘ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مشتبہ افراد نے پولیس پر رائفلوں سے فائر کھول دیا: ’مشتبہ افراد نے فوجی معیار کے اسلحے سے پولیس کے خصوصی دستوں پر فائر کھول دیا، جس کے بعد انھیں ناکارہ بنا دیا گیا۔‘

ویئرویے صوبہ لیئژ میں واقع ہے اور اس کی آبادی 56 ہزار ہے۔

فان ڈر سیپٹ نے کہا کہ بیلجیئم میں خطرے کا درجہ بڑھا کر تین کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس آپریشن کے بعد دارالحکومت برسلز اور اس کے نواحی علاقوں سینٹ جان مولنبیک، آندریلخت اور شائربیک میں بھی انسدادِ دہشت گردی سے متعلق چھاپے مارے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اس سے قبل جمعرات کو زوینتم شہر کے نواح میں مشتبہ مسلمان شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بیلجیئم کے صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ویئرویے کے مشتبہ افراد ’ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کر کے بڑے پیمانے پر لوگوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق بیلجیئم کے دوسرے حصوں میں بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں

عینی شاہدوں نے خبر دی کہ انھوں نے کئی منٹ تک تیز فائرنگ کی آواز سنی اور کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں آئیں۔

یہ جگہ ٹرین سٹیشن کے پاس ہے اور اسے چاروں طرف سے بند کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق قصبے کے مرکز میں پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔

ایک عینی شاہد میریلو فلیچر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم خریداری کے بعد واپس آ رہے تھے کہ پولیس کاریں دیکھیں۔ ہم سمجھے کہ کوئی حادثہ ہوا ہے، لیکن پھر ہم نے ایک دھماکہ دیکھا۔ ہم نے بھاگنا شروع کیا لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ پھر فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میرے بچے رونے لگے۔ وہ بہت ڈر گئے تھے۔‘

یہ واقعہ بیلجیئم کے پڑوسی ملک فرانس میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے ایک ہفتے کے بعد پیش آیا ہے جن میں 20 افراد مارے گئے تھے۔

بیلجیئن میڈیا نے بتایا تھا کہ پیرس کے حملوں میں استعمال ہونے والا بعض اسلحہ بیلجیئم کے درالحکومت برسلز سے خریدا گیا تھا۔

پیرس کے طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو پر ہونے والے اس حملے کے بعد کئی یورپی ملکوں میں سلامتی کی خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔

گذشتہ برس مئی میں برسلز میں ایک یہودی عجائب گھر میں ایک الجزائر نژاد فرانسیسی شہری نے چار یہودیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں