چارلی ایبڈو کا ’پیغمبرِ اسلام کے خاکے والا‘ شمارہ شائع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرورق کی تیاری پیچیدہ کام تھا کیونکہ اسے کچھ نیا پیغام دینا تھا اور وہ بھی اس سب سے متعلق جس کا ہمیں سامنا رہا ہے: جیرارڈ بیارڈ

پیرس میں گذشتہ ہفتے مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو نے اپنا وہ نیا شمارہ فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے جس کے سرورق پر اس کے مطابق پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا گیا ہے۔

یہ جریدے کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والا پہلا شمارہ ہے۔

عموماً اس طنزیہ میگزین کے ایک شمارے کی زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی ہیں مگر رسالے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار پوری دنیا میں اس کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے تازہ شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔

میگزین کے سرورق پر شائع کیے گئے خاکے میں ایک شخص کو آبدیدہ دکھایا گیا ہے اور وہ ایک ایسے بینر کے نیچے کھڑا ہے جس پر لکھا ہے ’سب کچھ معاف کر دیا‘۔

خاکے والے شخص کے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے جس پر ’جے سو چارلی‘ یعنی ’میں چارلی ہوں‘ درج ہے۔

تازہ شمارے میں بڑی تعداد میں ایسے خاکے شامل کیے گئے ہیں جن میں ’مسلم انتہاپسندوں‘ کو دکھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے میں بچ جانے والے چارلی ایبڈو کے عملے نے تازہ شمارے پر فرانس کے روزنامہ لبریشن کے دفتر سے کام کیا

رسالے کے اداریے میں ان لاکھوں لوگوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جنھوں نے رسالے سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔

یہ رسالہ انگریزی اور عربی سمیت چھ زبانوں میں دستیاب ہے اور اس کے مدیر اعلیٰ جیرارڈ بیارڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خوش ہیں کہ ہم نے یہ کر دکھایا اور ہم ایسا کرنے کے قابل ہوئے۔ یہ مشکل کام تھا۔ سرورق کی تیاری پیچیدہ کام تھا کیونکہ اسے کچھ نیا پیغام دینا تھا اور وہ بھی اس سب سے متعلق جس کا ہمیں سامنا رہا ہے۔‘

اس رسالے کی اشاعت سے قبل ہی اس کا متنازع سرورق فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہا تھا۔

یورپ اور امریکہ کے برعکس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اخبارات نے یہ خاکہ شائع نہیں کیا ہے۔

پیرس میں بی بی سی کے کرس مورس کے مطابق چارلی ایبڈو کے فیصلے کے بعد شدت پسند تنظیموں کی جانب سے رسالے کو دھمکیاں دیے جانے اور اسلامی دنیا کی جانب سے تنقید کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کو پیرس میں تقریباً پندرہ لاکھ افراد نے ہلاک شدگان کی یاد میں منعقدہ ریلی میں شرکت کی

خیال رہے کہ سات جنوری کو دو بھائیوں شریف اور سعید کواچی نے پیرس کے شمال مشرقی علاقے ڈامارٹن آں گوئل میں چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس سے چار کارٹونسٹس کے علاوہ ميگزین کے مدیر سمیت چار صحافی مارے گئے تھے۔

اس حملے میں بچ جانے والے افراد نے تازہ شمارے پر فرانس کے روزنامہ لبریشن کے دفتر سے کام کیا۔

فرانس کی وزارتِ دفاع نے پیرس میں گذشتہ ہفتے ہونے والے حملوں کے ردِ عمل میں دس ہزار فوجیوں کو یہودی عبادت گاہوں، مسجدوں اور ہوائی اڈوں پر تعینات کر دیا ہے۔

ان حملوں کے بعد ’میں چارلی ہوں‘ کا نعرہ بہت مقبول ہوا ہے اور اتوار کو پیرس میں تقریباً پندرہ لاکھ افراد نے ہلاک شدگان کی یاد میں منعقدہ ریلی میں شرکت کی۔

ادھر فرانس کے وزیرِ اعظم منوئل والس نے کہا ہے کہ فرانس کی جنگ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے ہے، مسلمانوں سے نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس میں دس ہزار فوجیوں کو یہودی عبادت گاہوں، مسجدوں اور ہوائی اڈوں پر تعینات کیا گیا ہے

انھوں نے فرانسیسی قومی اسمبلی کو بتایا کہ جن مسلمان بندوق برداروں نے پیرس میں 17 افراد کو قتل کیا وہ ’فرانس کی روح‘ کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں ناکام رہے۔

حملے کے بعد منگل کو فرانسیسی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں مقتولین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

والس نے اسمبلی کو بتایا کہ اتوار کو فرانس بھر میں ہونے والے بڑے مظاہرے تشدد کا ’زبردست جواب‘ تھے، لیکن انھوں نے اس کے ساتھ ہی کہا: ’ہم جہادازم اور دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں ۔۔۔ لیکن فرانس اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ نہیں کر رہا۔‘

انھوں نے گذشتہ ہفتے کے حملوں سے ’سیکھے جانے والے سبق‘ کی روشنی میں کئی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں جیلوں میں جہادیوں کے لیے الگ حصے اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی زیادہ کڑی نگرانی شامل ہیں۔

اسی بارے میں