بوکوحرام کے حملوں میں ’بڑی تعداد‘میں لوگ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ کچھ عرصے میں بوکو حرام کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے

مصنوعی سیارے سے حاصل کی جانے والی تصاویر کے مطابق نائـجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے جن قصبوں پر حملے کیے وہ بری طرح تباہ ہو چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان حملوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے دکھائی دیتا ہے کہ بگہ اور درون بگہ کے قصبوں میں تقریباً 3,700 مکانات اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بوکوحرام کیا ہے؟

لیکن نائجیریا کی حکومت کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ بوکوحرام کے حملوں میں دو ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ یہ تعداد صرف 150 کے قریب ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کا عینی شاہدین کے حوالے سے کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے مذکورہ علاقوں میں لوگوں کو بلا امتیاز اور اندھا دھند ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہاں ہونا والا نقصان کسی ’تباہی‘ سے کم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں بوکو حرام کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور گذشتہ ہفتے نائجیریا میں کئی حملے ہوئے جس میں مبینہ طور پر بچوں کو بھی خود کش بمباروں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نائجیریا میں عام انتخابات اگلے ماہ ہونا ہیں تاہم اس بارے میں خاصے شکوک پائے جاتے ہیں کہ سرکاری ادارے ملک بھر میں انتخابات کے عمل کو کامیابی سے مکمل کر پائیں گے یا نہیں۔

’نقشے سے غائب‘

ایمنسٹی انٹرنیشل کے مطابق تنظیم کا تجزیہ ہے کہ بوکو حرام نے نائجیریا کے مخلتف علاقوں میں جو حملے کیے ان میں سے سب سے زیادہ مہلک حملے بگہ اور درون بگہ میں کیے جو کہ ملک کے شمال مشرق میں واقع ہیں۔تنظیم کے بقول ان حملوں میں بگہ میں کم و بیش 620 جبکہ درون بگہ میں 3,100 عمارتوں کو تباہ کیا گیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے تجزیے میں جن تصاویر کا حوالہ دیا ہے وہ بوکو حرام کے مبینہ حملوں سے پہلے 2 جنوری کو اور پھر حملوں کے بعد 7 جنوری کو مصنوعی سیارے سے حاصل کی گئیں۔ ان تصاویر میں جن فصلوں اور درختوں کو نقصان نہیں پہنچا وہ سرخ رنگ میں دکھائے گئے ہیں۔

ان تصاویر میں ساحل کے قریب جو کشتیاں 2 جنوری کو دکھائی دے رہی تھیں وہ پانچ دن بعد دکھائی نہیں دیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل سے منسلک تجزیہ کار ڈینئل آئر کا کہنا ہے کہ ’ تفصیلی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دو قصبوں میں کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور چار دنوں کے اندر اندر ایک قصبہ تو صفحہ ہستی سے ہی مِٹ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جن فصلوں اور درختوں کو نقصان نہیں پہنچا وہ سرخ رنگ میں دکھائے گئے ہیں۔

’یہ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ عام شہریوں کے گھروں، کلینک اور سکولوں کو کس طرح جلا کر راکھ کر دیا گیا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار وِل راس کہتے ہیں کہ اگرچہ ان تصاویر سے اس تباہی کا اندازہ ہوتا ہے جو بوکو حرام نے اس علاقے میں پھیلائی، تاہم ہمیں ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں اصل میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔

گذشتہ ہفتے اس علاقے کے اعلیٰ سرکاری اہلکار موسیٰ الحاجی بکر نے کہا تھا کہ ان قصبوں سے جان بچا کر بھاگنے والے لوگوں نے انھیں بتایا تھا کہ بگہ، جہاں کی آبادی تقریباً دس ہزار تھی، اب ’ ختم ہو چکا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینئر افسر کا کہنا تھا کہ بگہ ’جل کر راکھ ہو چکا ہے۔‘

سرکاری اہلکاروں کے مطابق عسکریت پسندوں نے بگہ پر حملہ 7 جنوری کو کیا تھا اور اس سے چار دن پہلے وہ قصبے میں موجود بین الاقوامی فوجیوں کے اڈے پر قبضہ کر چکے تھے۔ اڈے پر تعینات نائجیریا کے فوجی بوکو حرام کے حملے سے پہلے ہی یہ اڈہ چھوڑ چکے تھے۔

ایمنٹسی انٹرنشینل کے اڈوٹی اکوائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نائجیریا کے جس علاقے میں حملے ہوئے ہیں وہاں تک رسائی اب بھی مشکل ہے اور نائجیریا کی حکومت ہلاک ہونے کی تعداد ’بہت ہی کم‘ بتا رہی ہے۔

ایک عینی شاہد نے تنظیم کو بتایا کہ ’انھوں نے اتنے زیادہ لوگوں کو مارا ہے کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ میں نے خود تقریباً ایک سو لوگوں کو بگہ میں مرے ہوئے دیکھا۔ میں جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جس وقت ہم وہاں سے بھاگ رہے تھے تو اس وقت بھی ہمیں حملہ آوروں کی گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک دوسرے عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بوکو حرام کا نشانہ بننے والوں میں چھوٹے بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھی۔

قصبے میں تباہی پھیلانے کے بعد حملہ آور اپنی گاڑیوں میں جنگل کی طرف نکل گئے جہاں سے انھوں نے عورتوں، بچوں اور بڑی عمر کے مردوں کو جا پکڑا۔‘

چار دن تک بوکو حرام کی قید میں رہنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے تقریباً تین سو عورتوں کو پکڑ لیا اور انھیں بگہ کے سکول میں بند کر دیا تھا۔

’انھوں نے بڑی عمر کی عورتوں، ماؤں اور زیادہ تر بچوں کو چار دن بعد رہا کر دیا لیکن جوان لڑکیاں اب بھی ان کی قید میں ہیں۔‘

اسی بارے میں