امریکہ اور برطانیہ ’سائبر جنگی مشقیں‘ کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس ہفتے کے آغاز پر امریکی سینٹ کام کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ہیکنگ کے بعد سائبر سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے

آن لائن مجرموں کے خلاف ایک نئے مشترکہ دفاعی منصوبے کے تحت امریکہ اور برطانیہ ’سائبر جنگی مشقوں‘ میں حصہ لیں گے۔

برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ یہ مشق اس سال منعقد کی جائے گی اور اس میں مالیاتی شعبے پر حملے سے نمٹا جائے گا۔

امریکی صدر اوباما کی برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد سائبر جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ’غیرمعمولی‘ اقدامات کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اہلکار بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب ’سائبر سیلز‘ میں مل کر کام کریں گے۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہو گا کہ برطانیہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ مشترکہ ’سائبر سیل‘ قائم کرے گا۔

اس مشق کا اعلان ایک ایسے موقعے پر کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکہ کے کئی سرکاری اور نجی ادارے سائبر حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے امریکی فوج کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا جب کہ اس سے پہلے سونی پکچرز کے راز افشا کر دیے گئے تھے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے سیاسی مدیر نک روبنسن سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ سائبر حملے ’جدید دور کے بڑے خطرات میں سے ایک ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔‘

ڈاؤننگ سٹریٹ نے کہا کہ پہلی جنگی مشق میں بینک آف انگلینڈ اور نجی بینک حصہ لیں گے، اور اس میں لندن اور وال سٹریٹ نیویارک کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس کے بعد ’حساس قومی ڈھانچے کو جانچنے کے لیے مزید مشقیں کی جائیں گی۔‘

صدر اوباما نے کہا ہے کہ سائبر خطرات ’فوری ہیں اور ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘ انھوں نے اسی ہفتے سائبر جرائم سے متعلق قوانین کو مضبوط کرنے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔

پیر کے روز امریکی سینٹ کام کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایسے ہیکروں کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا جنھوں نے اپنا تعلق شام و عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے بتایا تھا۔

اسی بارے میں