نائجیریا کے صدر کا تباہ شدہ علاقے کا اچانک دورہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ بوکوحرام کے خطرے کو نظرانداز کر رہے ہیں

نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے ملک کے شمال مشرقی حصے کا اچانک دورہ کیا ہے، جہاں بوکوحرام کے شدت پسندوں نے متعدد افراد کو قتل کر دیا تھا۔

صدر جوناتھن نے گذشتہ ہفتے کے تشدد سے بھاگ کر آنے والے پانچ ہزار کے قریب پناہ گزینوں کے ایک حصے کو بتایا کہ ’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آپ جلد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔‘

یہ 2013 کے بعد سے ان کا اس علاقے کا پہلا دورہ ہے۔

بوکوحرام کے حملوں میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک

ناقدین نے صدر پر الزام لگایا ہے کہ وہ بوکوحرام کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ برس اس علاقے کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

جمعرات کو مائیدوگوری شہر کے دورے میں صدر نے 900 کے قریب بےگھر افراد کو بتایا کہ وہ ان کی جلد واپسی کے لیے ’سخت کوشش‘ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بوکوحرام کے قبضے میں سارا علاقہ ان سے دوبارہ لے لیا جائے گا۔‘

صدر جوناتھن کا یہ دورہ ایک ایسے موقعے پر ہوا ہے جب برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بوکوحرام کے حملوں کی مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر نشر کی ہیں، جن سے بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کی ہلاکتوں کا پتہ چلتا ہے۔

ادارے کے مطابق ان تصاویر سے دکھائی دیتا ہے کہ بگا اور درون بگا کے قصبوں میں تقریباً 3,700 مکانات اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کا عینی شاہدین کے حوالے سے کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے مذکورہ علاقوں میں لوگوں کو بلا امتیاز اور اندھا دھند ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہاں ہونے والا نقصان کسی ’تباہی‘ سے کم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں بوکو حرام کی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور گذشتہ ہفتے نائجیریا میں کئی حملے ہوئے ہیں جس میں مبینہ طور پر بچوں کو بھی خود کش بمباروں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں