شام: دو اطالوی امدادی کارکن رہا کر دی گئیں

اطالوی امدادی کارکن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں امدادی کارکن رہائی کے بعد ترکی سے روم پہنچے جہاں ان کا استقبال اطالوی وزیرِ خارجہ نے کیا

پانچ ماہ پہلے شام میں یرغمال بنائے جانے والی دی امدادی کارکن رہا کر دی گئی ہیں۔

بیس سالہ گریٹا رامیلی اور اکیس سالہ ونیسا مارزولو کے رہائی کے بعد جمعہ کو دارالحکومت روم پہنچنے پر اطالوی وزیرِ خارجہ نے ان کا استقبال کیا۔

ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی رہائی کس طرح عمل پذیر ہوئی ہے۔

دونوں نوجوان لڑکیاں ترکی سے بذریعہ جہاز روم پہنچیں جہاں وزیرِ خارجہ پاؤلو جینٹیلونی نے انھیں خوش آمدید کہا۔

دونوں کو طبی چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جایا گیا اور اس کے بعد ان کی ملاقات انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر سے کرائی گئی جنھوں نے ان کے اغوا کے بعد تحقیقات شروع کی تھیں۔

اس سے قبل ونیسا مارزولو کے والد سلواتور نے کہا تھا کہ ’میں بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ وہ خبر ہے جس کا میں ایک لمبے عرصے سے انتظار کر رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دو ہفتے قبل جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دونوں یرغمالیوں کو دکھایا گیا تھا

ان خواتین کو جب گزشتہ برس اغوا کیا گیا تھا تو وہ ایک امدادی گروپ حریاتی کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔

دو ہفتے قبل ریلیز کی گئی ایک ویڈیو میں ان خواتین کو دکھایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انھیں شام میں القاعدہ کی شاخ النصرہ فرنٹ نے اغوا کیا تھا۔

ویڈیو میں ان میں سے ایک خاتون کو انگریزی زبان میں کہتے ہوئے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ’ہم بہت بڑے خطرے میں ہیں اور ہمیں مارا بھی جا سکتا ہے۔ ہماری زندگیوں کی ذمہ دار حکومت اور فوجیں ہیں۔‘

اطالوی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی ’اطالوی ٹیم کی سخت محنت‘ کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

بی بی سی کی روم میں نامہ نگار جیلین ہیزل کا کہنا ہے کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ لڑکیوں کو 15 ملین ڈالر کا تاوان ادا کیے جانے کے بعد چھوڑا گیا ہے اور یہ مذاکرات قطر کے تعاون سے کروائے گئے۔

اٹلی نے اس سے پہلے بھی یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے تاوان دیے ہیں۔ شام کی لڑائی میں النصرہ فرنٹ اور داعش پہلے بھی لوگوں کو اغوا کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں