امریکہ اور برطانیہ مشترکہ ٹاسک فورس بنائیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ اور امریکہ مذہبی کٹرپن اور ملک کے اندر سے ہونے والی ’پرتشدد انتہاپسندی‘ کو روکنے کے لیے مہارت کا تبادلہ کریں گے۔

اس بات اعلان وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کیا۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ دونوں کو ’زہریلے اور جنونی نظریے‘ کا سامنا ہے۔

اس مقصد کے لیے بنائی جانے والی دونوں ملکوں کی مشترکہ ٹاسک فورس چھ ماہ کے اندر اندر دونوں رہنماؤں کو رپورٹ دے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والی زمینی فوجوں کی مدد کے لیے مزید غیرمسلح ڈرون تعینات کرے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم واشنگٹن کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں صدر اوباما نے برطانوی وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اچھے دوست‘ ہیں، جب کہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ امریکہ برطانیہ کا ’ہم مزاج‘ ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات پیرس میں ہونے والے مہلک حملوں کے بعد ہوئی ہے جن میں 17 افراد مارے گئے تھے۔

جمعرات کو اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے مزید حملوں کا خطرہ اس وقت بڑھ گیا جب بیلجیئم میں پولیس نے دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ان افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ بڑا حملہ کرنے والے تھے۔

ڈیوڈ کیمرون نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس میں کہا: ’ہم ایک زہریلے اور جنونی نظریے کا سامنا کر رہے ہیں جو دنیا کے ایک بڑے مذہب اسلام کو آلودہ کرنا چاہتا ہے، اور تصادم، دہشت اور موت پیدا کرنا چاہتا ہے۔

’ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کا ہر جگہ مقابلہ کریں گے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادی ’ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دہشت گرد نیٹ ورکس کو شکست دے کر حملوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ’طویل، صبرآزما اور مشکل ہو گی،‘ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ انھیں ’یقین ہے کہ مغربی اقدار کی مدد سے انھیں شکست دی جا سکتی ہے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ بلقان کی ریاستوں اور مشرقی یورپ میں ایک ہزار فوجی بھیجے گا جو وہاں نیٹو کی جنگی مشقوں میں حصہ لیں گے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کی وجہ سے اس خطے کو کشیدگی کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں