نائجر:چارلی ایبڈو کے خلاف احتجاج جاری، متعدد گرجا گھر نذرِ آتش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائمے میں مظاہرین نے گرجا گھروں سمیت کئی عمارتوں کو آگ لگا دی

افریقی ملک نائجر میں حکام کا کہنا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کرنے والے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو کے خلاف مظاہرے سنیچر کو دوسرے دن بھی جاری رہے اور دارالحکومت نائمے میں کم از کم تین گرجا گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملک میں فون کمپنی اورنج سمیت فرانسیسی تجارتی کمپنیوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

فرانسیسی سفارتخانے نے نائمے میں رہائش پذیر اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دارالحکومت میں سنیچر کی ہنگامہ آرائی کے دوران سات گرجا گھر نذرِ آتش کیے گئے ہیں جبکہ حکام نے یہ تعداد تین بتائی ہے۔

بلوہ پولیس نے دارالحکومت کے مرکزی کیتھیڈرل کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا ہے اور وہ اسے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین سے تحفظ دے رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعے کو نائجر کے دوسرے بڑے شہر زیندر میں چارلی ایبڈو کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ایک پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زیندر میں فرانس کا ثقافتی مرکز بھی حملوں کی زد میں آیا

پولیس کا کہنا ہے کہ ’بعض مظاہرین تیر کمانوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ بعض جگہوں پر ان کا پولیس کے ساتھ سخت تصادم ہوا۔‘

ان مظاہروں کے دوران زیندر میں بھی کئی چرچ ، فرانس کا ثقافتی مرکز اور دوسری کئی عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئی تھیں۔

مقامی شہریوں نے روئٹرز کو بتایا کہ مظاہرین نے گرجا گھروں کو آگ لگا دی اور عیسائیوں کی دکانوں پر ہلہ بول دیا۔

ایک مقامی دکان دار نے ٹیلی فون پر بتایا: ’مظاہرین مقامی ہوسا زبان میں چلا رہے تھے: چارلی شیطان ہے، چارلی کے حامی جہنم میں جائیں۔‘

زیندر میں فرانس کا ثقافتی مرکز بھی حملوں کی زد میں آیا۔ مرکز کے ڈائریکٹر کاؤمی باوا نے کہا کہ 50 کے لگ بھگ مشتعل لوگوں کے ہجوم نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا اور کیفے، کتب خانے اور دفاتر کو آگ لگا دی۔

جمعے کے روز نائجر کے علاوہ پاکستان، سوڈان اور الجزائر سمیت مسلم دنیا کے کئی ملکوں میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں