نیویارک پوسٹ، یو پی آئی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یو پی آئی نے نیوز ویب سائٹ اور ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ہیک کی تصدیق کی ہے

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے سائبر سکیورٹی کو سخت کرنے کے اقدامات کے اعلان کے چند روز بعد ہیکروں نے مشہور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور خبر رساں ادارے یونائٹیڈ پریس انٹرنیشنل (یو پی آئی) کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو ہیک کر کے وہاں سے چین اور امریکہ کے مابین لڑائی اور تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کی جعلی خبریں جاری کیں۔

ہیکروں نے خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک جعلی پیغام میں پوپ کے حوالے سے لکھا کہ تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جو جعلی خبر نشرگئی وہ امریکہ اور چین میں لڑائی سےمتعلق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نیویارک نے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ہیک ہونے سے متعلق تحقیق کر رہا ہے

حالیہ دنوں میں ہیکروں نے امریکہ کے سرکاری اداروں اور پرائیوٹ کمپنیوں کے اکاؤنٹوں کو ہیک کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ہیکروں نے امریکی ملڑی کمانڈ کی سکیورٹی کو پامال کرنے کے صرف چار روز بعد ہی بڑے اخباری اداروں کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی۔

یو پی آئی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور نیوز ویب سائٹ کو ہیک کر لیا گیا ہے۔ یو پی آئی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر چھ جعلی ہیڈلائن جاری کی گئیں۔ بریکنگ سٹوری امریکی فیڈرل ریزرو بینک سے متعلق تھی۔

نیو یارک پوسٹ کے اکاؤنٹ پر جعلی خبر جاری کی گئی کہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن جنوبی بحیرہ چین میں چین کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امریکی ملٹری کمانڈ کے اکاؤنٹ کو ہیک کرنے والوں نے اپنے آپ کو شدت پسند گروہ داعش کا حامی ظاہر کیا تھا

پینٹاگون کے اہلکار نے کہا چین کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے خبریں سچی نہیں ہیں۔ اب یہ تمام ٹویٹس مٹا دی گئی ہیں۔نیو یارک پوسٹ نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ہیک ہونے سے متعلق تحقیق کر رہا ہے۔

امریکی کی ملٹری کمانڈر کے اوکاونٹ کو ہیک کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروہ داعش کے حامی ہیں۔

نومبر میں ہیکروں نے سونی پکچر سے صارفین کی خفیہ معلومات چرا کر انٹرنیٹ پر جاری کر دیا تھا۔