’2015 یورپ میں سیاسی زلزلوں کا سال ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سال 2015 دنیا بھر میں جمہوریت کے منشور عظیم (میگنا کارٹا) کی 800 ویں سالگرہ ہے

بی بی سی کے یوم جمہوریت کے لیے اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی تحقیق کے مطابق سنہ 2015 میں یورپی ممالک کے لیے کئی سیاسی زلزلے پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عوامیت پسند جماعتوں کی روز افزوں مقبولیت انھیں انتخابات میں کامیابی دلا سکتی ہے اور بعض اہم پارٹیاں ایسے اتحاد کے لیے مجبور ہو سکتی ہیں جس کے بارے میں پہلے گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

یوم جمہوریت پورے بی بی سی ریڈیو، ٹی وی اور آن لائن شعبوں میں منگل کے روز 20 جنوری کو منایا جا رہا ہے جبکہ سنہ 2015 میں ویسٹ منسٹر کی پہلی منتخب پارلیمان کی 750 ویں سالگرہ ہے اور اسی کے ساتھ یہ سال دنیا بھر میں جمہوریت کے منشور عظیم (میگنا کارٹا) کی 800 ویں سالگرہ بھی ہے۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ یورپ کا ’جمہوری بحران‘ معاشرے کے بااقتدار طبقے اور ووٹروں کے درمیان کی خلیج کا نتیجہ ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یورپی سیاست کے قلب میں ایک پھیلتا ہوا سوراخ ہے جہاں بڑے بڑے افکار و خیالات ہونے چاہییں۔‘

ووٹ ڈالنے کی شرح میں کمی اور روایتی پارٹیوں کی ممبر شپ میں کمی اس رجحان کو بیان کرنے والے اہم عوامل ہیں۔

Image caption حالیہ برسوں کے دوران دنیا کے کم از کم 90 ممالک میں مقبول عام عوامی مظاہرے نظر آئے ہیں

برطانیہ میں مئی میں انتخابات ہونے والے ہیں اور تحقیق کے مطابق ’ممکنہ طور پر یہ سیاسی عدم استحکام کے دروازے پر طویل مدت تک رہ سکتا ہے۔‘

اس میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں بہت ممکن ہے کہ ایک غیر مستحکم حکومت وجود میں آئے اور اس میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ عوامیت پسند جماعت یوکے انڈیپینڈنس پارٹی (یوکے آئی پی) کو کنزرویٹیو اور لیبر دونوں کے ووٹ حاصل ہوں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ووٹروں کی منقسم پسند کی وجہ سے کسی ایک پارٹی کی حکومت کا وجود میں آنا مشکل ہو گا۔

لیکن پہلا امتحان یونان میں ہوگا کہ کس حد تک عوامیت پسند پارٹیاں انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ یونان میں قبل از وقت اور جلد بازی میں انتخابات کرائے جا رہے ہیں جو 25 جنوری کو ہوں گے اور اس کی وجہ یہ رہی کہ دسمبر میں پارلیمان نئے صدر کا انتخاب کرنے میں ناکام رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC CHINESE
Image caption تحقیق کے مطابق ایشا قدرے پرسکون رہا تاہم اچھوتا نہیں رہا جس کی مثال ہانگ کانگ کے مظاہرے ہیں

رائے عامہ کے ایک سروے کے مطابق یونان میں عوامیت پسند پارٹی سائریزا ایک مضبوط پارٹی کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا اور یہ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہی تو اس سے یورپی یونین میں صدمے کی لہر پہنچے گی اور یہ دوسری جگہ سیاسی اتھل پتھل کے عامل کے طور پر کام کرے گا۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ ’سائریزا حکومت کا منتخب ہونا ملکی اور علاقائی دونوں سطح پر غیر مستحکم کرنے والی بات ہوگی اور اس سے یونان اور اس کے بین الاقوامی قرض دینے والوں کے رشتوں کے درمیان بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی کیونکہ اس کی پالیسی کا اہم حصہ قرضوں کو رد کیا جانا ہے۔‘

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’اسی قسم کی مروجہ نظام مخالف پارٹیاں ان ممالک میں تیزی سے مضبوط ہو رہیں ہیں جہاں سنہ 2015 میں انتخابات ہونے ہیں اور یونان میں اتھل پتھل کا دور رس اثر اہم ہوگا۔‘

ای آئی یو نے ڈنمارک، فن لینڈ، سپین، فرانس، سویڈن، جرمنی اور آئرلینڈ میں بھی ممکنہ طور پر ناقابل پیش گوئی نتائج کی بات کہی ہے۔

Image caption مشرق وسطی میں بہار عرب نام سے جمہوریت کی ایک لہر دیکھی گئی

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ ’ان ممالک میں جو مشترک اشاریے ہیں وہ عوامیت پسند پارٹیوں کا عروج ہیں۔

’پورے یورو زون میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور سیاسی عدم استحکام اور سنگین بحران کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔‘

دریں اثنا عوامیت پسند تحریکوں کی اہمیت میں اضافے کے ساتھ دنیا بھر میں مقبول عام احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے۔

ای آئی یو کے تخمینے کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں دنیا کے 90 ممالک میں اہم احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور ان کی رہنمائی نوجوان، تعلیم یافتہ، متوسط طبقے کے افراد نے کی ہے جو اپنے سیاسی رہنماؤں کو پسند نہیں کرتے اور روایتی سیاسی ڈھول کے بجائے ٹوئٹر اور دوسرے سماجی رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روایتی سیاسی پارٹیوں کی مقبولیت میں کمی آئی ہے

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ ’حالیہ برسوں میں یورپ، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مقبول عام احتجاجی مظاہروں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جبکہ دوسرے علاقے ایشیا اور شمالی امریکہ اس سے قدرے بچے رہے ہیں۔

’ان مظاہروں کا سرچشمہ مختلف رہا ہے، کہیں معاشی بحران اس کی وجہ رہی ہے تو کہیں آمریت کے خلاف بغاوت دیکھی گئی ہے، کہیں سیاسی بااقتدار طبقے تک اپنی آواز پہنچانے کی خواہش رہی ہے جبکہ دوسرے متوسط طبقے کے تیزی سے بڑھتے بازار ان کی امیدوں کے اظہار رہے ہیں۔‘

یہ تمام پیش رفت یہ سوال کھڑا کرتی ہیں کہ کیا ان سے جمہوریت کو خطرہ ہے یا یہ اس کے زندہ ہونے اور صحت مند ہونے کے شواہد ہیں؟

اسی بارے میں