فلسطینی جمہوریت آگے بڑھنے میں ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الفتح کے حکام بدعنوان تھے اور ہمیں ایک مذہبی جماعت سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی توقع تھی: ووٹرز

قلقیلیہ کے مرکزی بازار میں آج بھی مصالوں کی وہی بو ہے اور گلیوں میں وہی ہلچل اور شور ہے جو دس سال قبل مغربی کنارے کے اس شہر میں میں نے اپنے پہلے دورے میں دیکھی تھی۔

لیکن اب لوگوں کا جمہوریت کے متعلق رویہ بدل گیا ہے اور اب وہ انتخابات کے لیے اتنے پر جوش نہیں دکھائی دیے۔

ایک دکاندار کا کہنا تھا کے ہم دنیا بھر سے جمہوریت کے بارے میں بہت کچھ سنتے تھے لیکن ہم نے محسوس کیا کہ نظریے اور اس کے اطلاق میں بہت فرق ہے۔

سنہ 2005 میں فلسطینی اسلامی عسکریت پسند گروپ حماس نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس نے کئی مقامی کونسلوں میں برتری حاصل کی تھی جس میں قلقیلیہ بھی شامل تھا۔

کچھ ووٹرز کا کہنا تھا کہ مرکزی دھارے کی سیکیولر جماعت الفتح کے سابق حکام بدعنوان تھے اور انہیں ایک مذہبی جماعت سے بنیادی سہولیات دینے اور ایک بہتر کام کرنے کی توقع تھی۔

اسی وجہ سے حماس نے جنوری 2006 کے فلسطینی قانون ساز انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کی۔

تقریباً 78 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا اور بین الاقوامی ماہرین نے اس کو آزاد اور منصفانہ قرار دیا۔

لیکن یہ نتیجہ اسرائیل اور مغربی امدادی ممالک کے لیے مایوسی کا باعث تھا اور انھوں نے اس کا ذمہ دار فلسطینی اتھارٹی کو ٹھرایا۔

انھوں نے حماس سے سیاسی طور پر نمٹنے سے انکار کیا اور کہا کے وہ اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جب تک وہ تشدد اور اسرائیل کو تباہ کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے۔

قلقیلیہ کے بازار میں ایک خریدار نے کہا کہ ’ہمیں جمہوریت تب مل سکتی ہے جب مغرب ہماری پسند سے اتفاق کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کے جب انتخابات ہوئے تو مغرب نے ہماری حمایت کی لیکن جب عسکریت پسند جماعت جیت گئی تو انھوں نے ہم سے منہ پھیر لیا۔

سنہ 2005 میں جب میں میونسپل کارپوریشن کے دفاتر گئی تو میری بی بی سی ٹیم کچھ ایسے برطانوی سفارتکاروں سے ملی جو نئی حکومت اور حماس کے حکام کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔

تاہم حماس کا دور کچھ دیر ہی چلا اور اپنے کم سیاسی تجربے کی وجہ سے انھوں نے مقامی لوگوں کا اعتماد بھی کھو دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہمیں جمہوریت تب ہی مل سکتی ہے جب مغرب ہماری پسند سے اتفاق کرے گا: ایک دکاندار

اب ایک الفتح سے تعلق رکھنے والے میئر ایک مرتبہ پھر انچارج بن گئے ہیں۔

قلقیلیہ کے لوگوں نے سنہ 2012 کے مقامی انتخابات میں عثمان داؤد کے حق میں ووٹ دیا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ شہر کے اقتصادی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ان کے اختیارات محدود ہیں۔

عثمان داؤد کا کہنا ہے کہ ہم ایک جمہوری معاشرے میں حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیلی قبضے میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں کر سکتے۔

انھوں نے ایک نقشے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے قلقیلیہ کے چاروں جانب رکاوٹ کے لیے ایک دیوار کھڑی کر دی ہے جو عام فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہے اور انہیں منافع بخش زرعی زمین سے بھی دور کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم ایک جمہوری معاشرے میں حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیلی قبضے میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں کر سکتے: مسٹر داؤد

عثمان داؤد کا کہنا ہے کے حماس ایک فوجی حل چاہتی ہے جبکہ الفتح مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے۔ ہم تقسیم ہو چکے ہیں اور یہ چیز ہمیں کمزور کر رہی ہے۔

عام فلسطینی اس سیاسی عمل سے تنگ آ چکا ہے اور اپنی سر زمین پر معنی خیز تبدیلیوں کا خواہش مند ہے۔

اسی بارے میں