دہشت گردی کے 95 فیصد شکار مسلمان؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسین شلغمی نے پیرس حملے کے شکار افراد کو شہید قرار دیا

پیرس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے کے بعد پیرس کے امام وہاں گئے اور انھوں نے قاتلوں کی مذمت کی۔

امام حسین شلغمی نے کہا: ’یہ شہدا ہیں اور میں تہ دل سے ان کے لیے دعا کروں گا۔‘ ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے 95 فی صد شکار مسلمان ہیں۔ یہ تخمینہ کس قدر درست ہے؟

یہ دعویٰ اس رپورٹ سے مطابقت رکھتا ہے جو امریکی حکومت کے قومی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے (این سی ٹی سی) نے سنہ 2011 میں پیش کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا: ’ایسے معاملے جن میں دہشت گردی کی کارروائی میں مارے جانے والے لوگوں کی مذہبی شناخت قائم ہو سکتی ہے گذشتہ پانچ سالوں میں ان میں ہلاک ہونے والے افراد میں 82 سے 97 فی صد مسلمان ہیں۔‘

تاہم اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کا کیا تناسب ہے جس میں ہلاک شدگان کی مذہبی شناخت ممکن ہے اور کیا اس میں دوسرے لوگوں کی بھی نمائندگی ہوئی ہے۔ اس کا جواب حاصل کرنا اس لیے بھی بہت مشکل ہے کہ اب یہ رپورٹ تیار نہیں ہوتی۔

امریکہ میں قائم ایک دوسری ٹیم گلوبل ٹیرورزم ڈیٹا بیس (جی ٹی ڈی) ابھی بھی دہشت گردی سے متعلق اعداد و شمار اکٹھے کرتی ہے لیکن اس میں ہلاک ہونے والوں یا زخمیوں کی مذہبی نشاندہی کی کوشش نہیں کی جاتی۔ جی ٹی ڈی کی ایرن ملر کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس حملے میں مرنے والے ایک مسلمان پولیس افسر کے لیے اظہار عقیدت اس طرح پیش کیا گيا

اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام تر خام اعداد و شمار خبروں سے آتے ہیں اور اس میں ہلاک شدگان کے مذہب کے بارے میں مذکور نہیں ہوتا۔ 50 فی صد معاملوں میں جی ٹی ڈی کو یہ بھی نہیں پتہ چل پاتا ہے کہ حملہ کس نے کیا۔

ایرن ملر کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2004 سے 2013 کے درمیان ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں میں سے نصف حملے عراق، افغانستان اور پاکستان میں ہوئے اور 60 فی صد ہلاکتیں انھی ممالک میں ہوئیں اور یہ تینوں بیشتر مسلم ممالک ہیں۔‘

البتہ انھیں دہشت گرد حملوں میں مرنے والوں میں 95 فی صد مسلمان ہیں جیسے دعووں پر شک ہے، تاہم ان کے خیال میں یہ دعویٰ سچ سے بہت زیادہ دور بھی نہیں ہے۔

ملر نے کہا: ’مسلم اکثریتی ممالک میں زیادہ تر حملے مرکوز ہونے کی صورت حال میں یہ دعویٰ ناممکنات میں سے نہیں ہے۔‘

لیکن مغرب میں لوگ چارلی ایبڈو، یا 7/7 لندن حملہ، میڈرڈ ٹرین حملہ، یا پھر 11/9 جیسے واقعات کو ہی دہشت گردانہ حملہ خیال کرتے ہیں۔ ہر چند کہ ان میں کئی مسلمان مارے جاتے ہیں تاہم زیادہ تر ہلاک شدگان غیر مسلم ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایرن ملر کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں مذہب کا ایک حصہ ضرور ہے لیکن یہ کلی حصہ نہیں ہے

اور بین الاقوامی معیار کے مطابق فرانس، برطانیہ، سپین، اور امریکہ میں ہونے والے حملے بہت کم ہیں۔

سنہ 2004 سے 2013 کے درمیان برطانیہ میں 400 دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر شمالی آئرلینڈ میں ہوئے لیکن زیادہ تر میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ اسی درمیان امریکہ میں 131 حملے ہوئے اور 20 سے کم میں ہلاکتیں ہوئیں۔ فرانس میں اس مدت میں 47 حملے ہوئے جبکہ اس دوران عراق میں 12 ہزار حملے ہوئے اور ان میں سے آٹھ ہزار میں ہلاکتیں ہوئیں۔

ایرن ملر کہتی ہیں کہ مذہبی پہچان پر توجہ مرکوز نہ کرنے کی صلاح کی ایک وجہ یہ ہے کہ ’اسے لوگ سکور کارڈ کے طور پر یہ دکھانے کے لیے استعمال کرنے لگیں گے کہ کون سا مذہبی گروپ دوسرے کے مقابلے میں کس قدر پرتشدد ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا غلطی ہوگی۔ زیادہ تر دہشت گردانہ حملوں کی جڑیں علاقائی سیاست میں پیوست ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’مذہب ان کا ایک حصہ ضرور ہے لیکن یہ کلی حصہ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں