’یوکرین میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں فریقین بھاری ہتھیار استعمال کر رہے ہیں

یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں ہونے والی لڑائی میں شدت آنے کے بعد مبصرین نے علاقے کی مجموعی سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے خراب ہونے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

یورپ میں تحفظ اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے دونیتسک کے ہوائی اڈے کے اردگرد ہونے والی لڑائی اب شہر کے مختلف علاقوں میں پھیل رہی ہے۔

تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں شہری خصوصاً بچے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

دونیتسک میں گذشتہ ہفتے سے شہر کے ہوائی اڈے پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

یوکرین کی حکومتی افواج ان سے برسرِ پیکار روس نواز باغی دونوں کا دعویٰ ہے کہ شہر کے ہوائی اڈے پر ان کا قبضہ ہے۔

یہ شہر کئی ماہ سے شدید جھڑپوں کا مرکز رہا ہے اور ہوائی اڈے کا کنٹرول شہر پر قبضے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فریقین نے ایک دوسرے پر گذشتہ برس ستمبر میں منسک میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

او ایس سی ای کے ترجمان مائیکل بوسیورکیو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے مبصرین نے کو اطلاعات فراہم کی ہیں ان کے مطابق گذشتہ چند دنوں میں سلامتی کی صورتحال تیزی سے بگڑی ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونیتسک میں گذشتہ ہفتے سے شہر کے ہوائی اڈے پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’لڑائی دونیتسک شہر میں پھیل رہی ہے اور ہمارے خدشات میں سے ایک بڑا خدشہ ان شہریوں کے بارے میں ہے جو اس تنازع میں خصوصاً ہوائی اڈے اور اس کے اردگرد کے علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو ’انتہائی خوفناک‘ قرار دیا۔

پیر کو مشرقی یوکرین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دونیتسك اور لوہانسک میں کئی مقامات پر گولہ باری کی گئی ہے اور دونیتسک میں ایک ہسپتال بھی اس گولہ باری کا نشانہ بنا ہے۔

مقامی حکام نے اس گولہ باری سے آٹھ شہریوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے جبکہ اس سے کئی مکانات بھی تباہ ہوئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونیتسک اور اس کے ہوائی اڈے پر حکومتی افواج کے تازہ حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

یہ حملہ باغیوں کی جانب سے ایئرپورٹ کے نئے ٹرمینل پر کنٹرول کے دعوے کے بعد کیا گیا تھا اور باغیوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے سرکاری فوج کو اس پل پر روک دیا جو شہر کو ایئرپورٹ سے ملاتا ہے۔ جنگ میں یہ پل بھی منہدم ہو گیا ہے۔

یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں حکام نے کہا ہے کہ دونیتسک کے ہوائی اڈے پر کئی فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب عمارت کی ایک چھت نیچے آ گری۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونیتسک میں ایک ہسپتال بھی اس گولہ باری کا نشانہ بنا ہے۔

پیوتن کے خط کا جواب نہیں دیا

ادھر روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے اس خط کا جواب نہیں دیا ہے جس میں انھوں نے فریقین کو بھاری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق ملک کے نائب وزیرِ خارجہ گریگری کراسن نے کہا ہے کہ ’یہ یوکرینی حکام کی سب سے بڑی سٹریٹیجک غلطی ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے عسکری قوت پر انحصار کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ اس سوچ سے یوکرین کی ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور حالات اس موڑ پر پہنچ سکتے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔

یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس کے آٹھ ہزار سے زیادہ فوجی باغیوں کی مدد کر رہے ہیں تاہم روس اس الزام سے انکار کرتا ہے۔

مشرقی یوکرین میں نو ماہ پہلے شروع ہونے والی لڑائی میں ابھی تک 4,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں