یمن میں باغیوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حوثی قبائل 2004 سے سادا صوبے کی خودمختاری کے حق میں تحریک چلا رہے ہیں

یمن میں حکام کے مطابق حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کے وسط میں واقع وزیراعطم کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔

حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق مسلح افراد نے محل کا محاصرہ کر لیا ہے جبکہ وزیراعظم اس وقت اندر موجود ہیں۔

یمن میں جنگ بندی ہو گئی، سرکاری ٹی وی پر باغیوں کا قبضہ

اس سے پہلے پیر کو سرکاری سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان صدارتی محل کے قریب جھڑپوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی تھی۔

ابھی تک وزیراعظم ہاؤس کے قریب کسی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی ہے اور بظاہر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی صبح صدارتی محل کے قریب اس وقت جھڑپیں شروع ہوئیں جب باغیوں نے صدارتی محل کے قریب اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق اس کے بعد محل کے قریبی گلیوں میں فوجیوں کو بھیجا گیا اور کئی گھنٹوں تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

حکومت اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران یمن کی وزیرِ اطلاعات نادیہ السکاف نے کہا تھا کہ صدر کا تختہ الٹنے کی کوشش کے باجود وہ بالکل محفوظ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صنعا کے بڑے علاقے پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے

پیر کو تازہ جھڑپیں باغیوں کی جانب سے صدر عبدالربوح منصور ہادی کے چیف آف سٹاف احمد کے اغوا کے دو دن بعد شروع ہوئی ہیں۔عواد بن مبارک اور ان کے دو محافظین کو صنعا کے مرکزی علاقے سے ہی سنیچر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر اور باغیوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جانب سے کروائے گئے معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کارروائی کی ہے۔

باغیوں نے ایک بیان میں یمنی صدر کو متنبہ کیا ہے کہ وہ معاہدے کو بچانے کے لیے ’خصوصی اقدامات‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ سال ستمبر میں شیعہ حوثی باغیوں اور سنّی شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں کے بعد باغیوں اور حکومت نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

حوثی قبائل کو حکومت سے معاہدے کی تحت صنعا سے پیچھے ہٹنا تھا لیکن انھوں نے دارالحکومت کے سنّی علاقوں میں اور مغربی یمن میں اپنے دائرہ کار اور کنٹرول کو مزید وسعت دے دی۔

صنعا کے بڑے علاقے پر اس وقت حوثی قبائل کا کنٹرول ہے۔ حوثی قبائلی سال 2004 سے سعودی عرب سے متصل صوبہ سادا میں زیادہ خودمختاری کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔

جزیرہ نما عرب میں برسرپیکار القاعدہ نے جہاں گذشتہ چار سالوں میں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو اقتدار سے ہٹانے کی احتجاجی تحریک سے پیدا ہونے والی بےچینی اور افراتفری کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے وہیں حوثی قبائل کی طرف سے بھی موجودہ صدر ہادی کی حکومت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں